امریکہ سے دور رہو، فرانس کے صدر کو رہبرِ انقلاب کی 14 سال پہلے دی گئی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
یورپ کی سیاسی کمزوری پر رہبر انقلاب نے فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور آزادانہ پالیسی سازی میں کمزوری، سیاسی زوال کی علامت ہے۔ آج انہی باتوں کو ٹرمپ کی زبان سے امریکہ کی قومی سلامتی دستاویز میں باضابطہ طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چودہ سال پہلے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے یورپ کی طرف سے امریکہ کے حوالے سے سیاسی کمزوری اور اس پر انحصار کی طرف اشارہ کیا تھا اور جنرل شارل ڈیگال کا واقعہ یاد دلایا تھا۔ اب یہ وارننگ امریکہ کی نئی قومی سلامتی دستاویز میں باضابطہ طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس امریکی دستاویز میں نہایت صاف اور تحقیر آمیز انداز میں یورپ کی تہذیبی طاقت میں کمی اور اس کی کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اس میں تہذیبی زوال جیسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر اُن باتوں سے مشابہ ہے جو رہبرِ معظم انقلاب نے سال 2012 میں یورپ اور خاص طور پر فرانس کو مخاطب کرتے ہوئے کہی تھیں۔
اُس وقت انہوں نے یورپ کی سیاسی کمزوری کی بات کی تھی اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور آزادانہ پالیسی سازی میں کمزوری، سیاسی زوال کی علامت ہے۔ آج انہی باتوں کو ٹرمپ کی زبان سے امریکہ کی قومی سلامتی دستاویز میں باضابطہ طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اب کھلے طور پر یورپ سے کہہ رہا ہے کہ وہ یوکرین کی جنگ کے معاملے میں روس کے ساتھ صلح کو قبول کرے اور اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے۔ یہ وہی تاریخی وارننگ ہے جو رہبرِ انقلاب نے پہلے دی تھی اور آج وہی بات امریکہ کی قومی سلامتی دستاویز میں رسمی طور پر سامنے آ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قومی سلامتی دستاویز میں امریکہ کی یورپ کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔