اسلام ٹائمز: متحدہ عرب امارات کے صومالی لینڈ کے ساتھ سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات بہت مضبوط ہیں، اور اسرائیل کی جانب سے اس علاقے کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے ریاض میں اسرائیل کے خلاف سخت ناراضی پیدا کر دی ہے۔ واضح ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے تعلقات اب پہلے کی طرح بند اور مکمل تعاون والے نہیں رہے، بلکہ یہ ایک کھلی اور اسٹریٹجک رقابت بن چکے ہیں۔ سعودی عرب قطر کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہا ہے جو امارات کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ دونوں ممالک خطے کے نظام کے بارے میں الگ الگ سوچ رکھتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

عبرانی زبان کے اخبار ہاآرتز نے اسرائیلی حکام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف اور مقابلے سے بھرپور (اور اپنے فائدے کے لیے) استعمال کریں۔ عبرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ابوظبی اور ریاض کے درمیان موجود اختلاف اور رقابت سے مکمل فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے تحقیقی ادارے میں خلیج فارس پروگرام کے سربراہ اور تجزیہ کار یوئل گازنسکی نے اپنے مضمون میں لکھاکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو کبھی کبھی مشرقِ وسطیٰ میں اعتدال پسند کیمپ کے مضبوط اتحادی اور ستون کے طور پر دکھایا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ان کے تعلقات ضرورت کے تحت تعاون اور قیادت و علاقائی اثر و رسوخ کے لیے مقابلے کا مجموعہ ہیں۔

عرب بہار کے بعد دونوں ممالک نے قریبی ہم آہنگی کے ساتھ تعاون کیا اور کوشش کی کہ عرب دنیا کو اپنے مفادات کے مطابق شکل دیں، لیکن اب ان کی آپسی رقابت بڑھ رہی ہے اور اس کا اثر اسرائیل پر بھی پڑ رہا ہے۔ سوڈان میں یہ دونوں ممالک خانہ جنگی کے مخالف فریقوں کی حمایت کرتے ہیں، عدم استحکام میں اضافہ کرتے ہیں، سیاسی سمجھوتہ ہونے نہیں دیتے اور بالواسطہ طور پر سوڈان اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنے میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔ یمن میں 2015 میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کے آغاز پر دونوں نے قریبی تعاون کیا، لیکن اس کے بعد ان کے اختلافات بڑھ گئے اور اس نے مشترکہ دشمن یعنی انصار اللہ یمن کے خلاف مؤثر کارروائی کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دیا۔

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بھی افریقہ کے شاخِ افریقہ میں سعودی عرب اور امارات کی رقابت سے جڑا ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صومالی لینڈ کے ساتھ سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات بہت مضبوط ہیں، اور اسرائیل کی جانب سے اس علاقے کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے ریاض میں اسرائیل کے خلاف سخت ناراضی پیدا کر دی ہے۔ واضح ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے تعلقات اب پہلے کی طرح بند اور مکمل تعاون والے نہیں رہے، بلکہ یہ ایک کھلی اور اسٹریٹجک رقابت بن چکے ہیں۔ سعودی عرب قطر کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہا ہے جو امارات کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ دونوں ممالک خطے کے نظام کے بارے میں الگ الگ سوچ رکھتے ہیں۔

محمد بن سلمان اور محمد بن زاید کے تعلقات بھی سرد پڑتے جا رہے ہیں کیونکہ بن سلمان خود کو پین عرب لیڈر کے طور پر منوانا چاہتے ہیں۔ دونوں کے اختلافات کی جڑیں پرانے سرحدی اور قبائلی تنازعات میں بھی موجود ہیں۔ پہلے ان کی رقابت زیادہ تر جزیرۂ عرب تک محدود تھی، لیکن آج ان کی معاشی اور سیاسی طاقت کو دیکھتے ہوئے اس کے علاقائی بلکہ عالمی اثرات بھی پڑتے ہیں۔ مضمون میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل خود کو ان دونوں کے درمیان میں پاتا ہے، اور شاخِ افریقہ اور صومالی لینڈ جیسے علاقوں میں وہ ابوظبی کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے، جبکہ ریاض میں اس موقف کو امارات کی مجموعی حمایت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سعودی عرب اور امارات کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اسرائیل کے لیے صرف ایک نظری بات نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مسئلہ ہے، اور حتیٰ کہ فیصلہ کرنے سے بچنا بھی ایک فیصلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب ہر اس کوشش کے بارے میں حساس ہے، چاہے وہ حقیقی ہو یا محض اندازہ، جس میں اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس صہیونی ماہر نے بتایا کہ امارات کے اعلیٰ حکام اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اسرائیل بظاہر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے، اور اس کی قیمت امارات کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔

آج سعودی حکام بھی شکایت کرتے ہیں کہ اسرائیل نے اپنا مستقبل حد سے زیادہ امارات کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ امارات کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ضروری ہے، لیکن ایسا نہ ہو کہ اسے امارات کے نقطۂ نظر کی مکمل حمایت سمجھ لیا جائے۔ اسرائیل کو ہر اس اقدام سے بچنا چاہیے جو سعودی عرب کے مفادات کو کمزور کر سکتا ہو۔ اسرائیل کسی ایک طرف جھکنے کی پوزیشن میں نہیں، اسے دونوں کی ضرورت ہے، اس لیے اسے کسی ایک کا تسلسل یا نمائندہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ جیسے تنازعات سے بھرے خطے میں سفارتی لچک کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ سیاسی بقا کے لیے ضروری شرط ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور دونوں ممالک صومالی لینڈ اسرائیل کے اسرائیل کی کہ اسرائیل امارات کے کے درمیان کے تعلقات کرتے ہیں کے ساتھ کے خلاف اور اس رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے