کالکالیست نے اعتراف کیا کہ مرکزی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں، تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ 2025 میں ہجرت کرنے والے 69 ہزار اسرائیلیوں میں سے بہت بڑی تعداد اُن لوگوں کی تھی جو ٹیک اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی ریاست کی سیکورٹی صورتحال ابتر ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں سے ہجرت کر کے اسرائیل میں آباد ہونیوالے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین کی ہجرت معکوس جاری ہے۔ ایک عبرانی زبان کے میڈیا نے ہجرت معکوس (یعنی اسرائیل سے باہر جانے) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے خون ریزی سے تشبیہ دی ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے عبرانی گروپ کے مطابق عبرانی اقتصادی اخبار کالکالیست نے اپنی آج کی اشاعت میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل میں مختلف شعبوں سے متعلق افرادی قوت کے مسلسل نکل جانے (ہجرت) کو خون ریزی قرار دیا ہے، جسے روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ حل نکالنا ضروری ہے۔

اس عبرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیل میں 2026 کے انتخابات کے بعد جو کابینہ آئے گی، اس کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اسرائیل سے باہر جانے والی الٹی ہجرت کی اس شدید خون ریزی کو روکا جائے۔ کالکالیست نے اعتراف کیا کہ مرکزی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں، تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ 2025 میں ہجرت کرنے والے 69 ہزار اسرائیلیوں میں سے بہت بڑی تعداد اُن لوگوں کی تھی جو ٹیک اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان کے درمیان ہجرت کی اوسط زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرنا باقی اسرائیلیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ 

اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مینیجرز اعتراف کرتے ہیں کہ اسرائیل میں قانونی بغاوت کے آغاز کے بعد (اور پھر جنگ شروع ہونے کے بعد) ان کے ملازمین کی طرف سے بیرونِ ملک (فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے باہر) منتقل ہونے کی درخواستوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے ناداف تساوریر، جو یونٹ 8200 کے سابق کمانڈر اور اس وقت چیک پوائنٹ کمپنی کے سی ای او ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی اور معیشت کو سب سے بڑا خطرہ مصنوعی ذہانت یا کوئی اور ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو دماغوں کی ہجرت اسرائیل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جدید ٹیکنالوجی اسرائیل میں کہ اسرائیل

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم