اسرائیل سے ماہرین کی واپس اپنے ملکوں کو ہجرت کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کالکالیست نے اعتراف کیا کہ مرکزی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں، تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ 2025 میں ہجرت کرنے والے 69 ہزار اسرائیلیوں میں سے بہت بڑی تعداد اُن لوگوں کی تھی جو ٹیک اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی ریاست کی سیکورٹی صورتحال ابتر ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں سے ہجرت کر کے اسرائیل میں آباد ہونیوالے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین کی ہجرت معکوس جاری ہے۔ ایک عبرانی زبان کے میڈیا نے ہجرت معکوس (یعنی اسرائیل سے باہر جانے) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے خون ریزی سے تشبیہ دی ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے عبرانی گروپ کے مطابق عبرانی اقتصادی اخبار کالکالیست نے اپنی آج کی اشاعت میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل میں مختلف شعبوں سے متعلق افرادی قوت کے مسلسل نکل جانے (ہجرت) کو خون ریزی قرار دیا ہے، جسے روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ حل نکالنا ضروری ہے۔
اس عبرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیل میں 2026 کے انتخابات کے بعد جو کابینہ آئے گی، اس کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اسرائیل سے باہر جانے والی الٹی ہجرت کی اس شدید خون ریزی کو روکا جائے۔ کالکالیست نے اعتراف کیا کہ مرکزی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں، تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ 2025 میں ہجرت کرنے والے 69 ہزار اسرائیلیوں میں سے بہت بڑی تعداد اُن لوگوں کی تھی جو ٹیک اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان کے درمیان ہجرت کی اوسط زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرنا باقی اسرائیلیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔
اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مینیجرز اعتراف کرتے ہیں کہ اسرائیل میں قانونی بغاوت کے آغاز کے بعد (اور پھر جنگ شروع ہونے کے بعد) ان کے ملازمین کی طرف سے بیرونِ ملک (فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے باہر) منتقل ہونے کی درخواستوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے ناداف تساوریر، جو یونٹ 8200 کے سابق کمانڈر اور اس وقت چیک پوائنٹ کمپنی کے سی ای او ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی اور معیشت کو سب سے بڑا خطرہ مصنوعی ذہانت یا کوئی اور ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو دماغوں کی ہجرت اسرائیل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جدید ٹیکنالوجی اسرائیل میں کہ اسرائیل
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔