پشاور، شدید سردی اور دھند کے باوجود اسکول کھل گئے، بچوں کے بیمار ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پشاور:
شہر میں شدید سردی، گھنی دھند اور بوندا باندی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ سردی کی شدت میں اضافے کے باوجود پشاور یونیورسٹی کے زیر انتظام اسکول کھول دیے گئے ہیں، جس پر والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یونیورسٹی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں بوندا باندی کے ساتھ شدید دھند چھائی رہی، جس کے باعث حدِ نگاہ بعض مقامات پر صفر ہو گئی۔
شہر اور مضافاتی علاقوں میں شدید سردی کا راج ہے، جہاں کم سے کم درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیںدیر، چترال، جنوبی وزیرستان میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری، سردی بڑھ گئی
کے پی کےسرکاری اسکول میں کرسی میز کی عدم دستیابی، طلبا سردی میں فرش پر بیٹھنے پر مجبور
والدین کا کہنا ہے کہ شدید دھند اور سردی میں پرائمری اسکول کے معصوم بچوں کا اسکول جانا ان کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اور اس صورتحال میں بچوں کے بیمار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
والدین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسکولوں کے اوقات کار یا تعطیلات سے متعلق مناسب فیصلہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
(ویب ڈیسک)چترال، سوات، دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ کے نواحی علاقوں میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں سے نکل آئے۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کے شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی جس کی زیر زمین گہرائی 191 کلو میٹر تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کوہ ہندوکش پہاڑی سلسلہ تھا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل