قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سمندر پار پاکستانی کا اجلاس، ویلفیئر اتاشی کی کارکردگی پر سوال
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کے اجلاس میں خلیجی ممالک میں ویلفیئر اتاشی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ممبر مہرین رزاق نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرون ملک تعینات ویلفیئر اتاشی پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، آخر وہ کیا کر رہے ہیں؟
انہوں نے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ ویلفیئر اتاشی کتنی ملازمتیں لے کر آئے؟ ویلفئیر اتاشی وائس رائے نہیں لگے ہوئے، وہ مراعات لے رہے ہیں لیکن کام نہیں کرتے، اکثر ویلفیر اتاشی سفارشی ہیں۔
رواں سال پہلے 3 ماہ میں 1 لاکھ 72 ہزار 144پاکستانی ملازمت کی غرض سے بیرون ملک گئے، بیورو آف امیگریشن نے اعداد و شمار جاری کردیے۔
مہرین رزاق کا کہنا تھا کہ ریاض میں 2 ویلفیئر اتاشی میاں بیوی ہیں، وہ اکھٹے چھٹی پر ہیں، کیا ایک ہی جگہ تعینات میاں بیوی ویلفیئر اتاشی کو اکٹھے چھٹی دینی چاہیے تھی؟
انہوں نے کہا کہ ایک اتاشی کی مدت ختم ہوئے 8 ماہ ہوگئے لیکن وہ وہیں ہیں۔
اجلاس میں آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ مجھے ویلفئیر اتاشی کی کارکردگی چاہیے، یہ بتائیں قطر میں کتنے پاکستانیوں کو بھرتی کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہ ہو کہ پاکستانی مجھے باہر سے فون کریں کہ ویلفیئر اتاشی کام نہیں کر رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اتاشی کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔