فائل فوٹو

قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کے اجلاس میں خلیجی ممالک میں ویلفیئر اتاشی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ممبر مہرین رزاق نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرون ملک تعینات ویلفیئر اتاشی پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، آخر وہ کیا کر رہے ہیں؟

انہوں نے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ ویلفیئر اتاشی کتنی ملازمتیں لے کر آئے؟ ویلفئیر اتاشی وائس رائے نہیں لگے ہوئے، وہ مراعات لے رہے ہیں لیکن کام نہیں کرتے، اکثر ویلفیر اتاشی سفارشی ہیں۔

رواں سال کتنے پاکستانی ملک چھوڑ گئے اور کہاں منتقل ہوئے؟

رواں سال پہلے 3 ماہ میں 1 لاکھ 72 ہزار 144پاکستانی ملازمت کی غرض سے بیرون ملک گئے، بیورو آف امیگریشن نے اعداد و شمار جاری کردیے۔

مہرین رزاق کا کہنا تھا کہ ریاض میں 2 ویلفیئر اتاشی میاں بیوی ہیں، وہ اکھٹے چھٹی پر ہیں، کیا ایک ہی جگہ تعینات میاں بیوی ویلفیئر اتاشی کو اکٹھے چھٹی دینی چاہیے تھی؟

انہوں نے کہا کہ ایک اتاشی کی مدت ختم ہوئے 8 ماہ ہوگئے لیکن وہ وہیں ہیں۔

اجلاس میں آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ مجھے ویلفئیر اتاشی کی کارکردگی چاہیے، یہ بتائیں قطر میں کتنے پاکستانیوں کو بھرتی کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ ہو کہ پاکستانی مجھے باہر سے فون کریں کہ ویلفیئر اتاشی کام نہیں کر رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اتاشی کی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن