لاہور پی پی 167 میں ضمنی انتخاب، بائیکاٹ کے اعلان پر پی ٹی آئی دو حصوں میں تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور:
لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کے معاملے میں تحریک انصاف دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق رہنماؤں کی رائے تھی کہ سیاسی کمیٹی کو اس حلقے میں بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تھا، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بائیکاٹ کی ہدایت ارکان کی سزا کے بعد ڈی سیٹ ہونے والے حلقوں میں کی تھی اور این اے 129 کی طرح پی پی 167 کا بائیکاٹ اس پالیسی کے تحت نہیں آتا۔
ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان مرکزی سیکرٹری اطلاعات وقاص اکرم کی جانب سے کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق رہنماؤں نے تجویز دی ہے کہ سیاسی کمیٹی کے آگے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی تجویز رکھی جائے۔
واضح رہے کہ پی پی 167 ضمنی انتخاب میں ملک محمد شفیع کھوکھر ن لیگ کے امیدوار ہیں، مذکورہ نشست ان کے بیٹے ایم پی اے ملک عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، الیکشن کمیشن نے چار فروری کو انتخاب کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی پی 167
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔