جی ایچ کیو حملہ کیس: 40 سے زائد غیر حاضر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران پیش نہ ہونے والے 40 سے زائد ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں پیش رفت کرتے ہوئے غیرحاضر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران 40 سے زائد ایسے ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جو مسلسل عدالتی کارروائی سے غیر حاضر رہے، جس کے بعد کیس کی قانونی صورتحال مزید سنجیدہ رخ اختیار کر گئی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران وکلائے صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ کیس سے متعلق ہدایات حاصل کی جا سکیں، تاہم پراسیکیوٹر نے اس درخواست کی مخالفت کی۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت ضمانت پر ہیں اور انسداد دہشت گردی عدالت کی تحویل میں نہیں، جبکہ جیل انتظامیہ کی تحویل صرف سزا یافتہ یا زیرِ حراست ملزمان تک محدود ہوتی ہے۔ اس پر وکلائے صفائی نے مؤقف اپنایا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی جاتی، وہ عدالتی کارروائی میں مؤثر انداز میں حصہ نہیں لے سکتے۔
عدالت نے وکلائے صفائی کو ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کی کاپی فراہم کر دی، جبکہ کیس کی مزید سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالتی ذرائع کے مطابق آئندہ سماعت میں غیر حاضر ملزمان کی گرفتاری اور ٹرائل کے طریقہ کار سے متعلق مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دہشت گردی عدالت بانی پی ٹی آئی ملزمان کے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔