کراچی میں حملے کے بعد رجب بٹ اور ندیم نانی والا کو لاہور سیشن کورٹ میں کیسی سیکورٹی فراہم کی گئی؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
مشہور سوشل میڈیا یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاک اسٹار ندیم نانی والا کو کراچی سٹی کورٹ میں وکلاء کی جانب سے مبینہ تشدد کے بعد لاہور کی سیشن عدالت میں سخت سیکیورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر عدالت کے اطراف پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے مضبوط حصار قائم کیا ہوا تھا جبکہ بڑی تعداد میں ان کے فینز اور قانونی ٹیم بھی عدالت میں موجود تھے۔
کراچی سٹی کورٹ میں وکلاء کے تشدد کے بعد یوٹیبر رجب بٹ اور ندیم نانی والے کو لاہور کی سیشن عدالت میں زبردست پروٹوکول فراہم کیا گیا
سخت سکیورٹی حصار اور حامی وکلاء اور فینز کی بڑی تعداد ک ہمراہ عدالت پیشی pic.
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) January 6, 2026
لاہور سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی عبوری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔ اس دوران این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر اس وقت ہائیکورٹ میں مصروف ہیں اس لیے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت درکار ہے۔
عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواستوں کو زیر التوا رکھ دیا، تاہم دونوں ملزمان کی حاضری مکمل قرار دیتے ہوئے انہیں کمرہ عدالت سے واپس جانے کی اجازت دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کیس: وکلا کے درمیان تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا
واضح رہے کہ کراچی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاکی بڑی تعداد نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور تشدد کرنے والے ایک وکیل نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ رجب بٹ خود کو بڑا شیر اور بہادر سمجھ رہا تھا لیکن آج اسے پتا لگ گیا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رجب بٹ رجب بٹ تشدد رجب بٹ سیکیورٹی رجب بٹ عدالت رجب بٹ وکیل ندیم نانی والا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رجب بٹ سیکیورٹی رجب بٹ عدالت رجب بٹ وکیل ندیم نانی والا ندیم نانی والا رجب بٹ اور عدالت میں کورٹ میں
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :