حکومت شتر بے مہار چل رہی ہے، نہ کوئی منزل ہے نہ کوئی ٹھکانہ: فیصل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے نو مئی کے واقعات سے جڑے مقدمات پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا کیسز قرار دیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ نو مئی کو ایک باقاعدہ سیاسی بیانیہ بنا دیا گیا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر پی ٹی آئی کا کوئی فرد مریخ پر بھی موجود ہوتا تو اسے بھی ان مقدمات میں نامزد کر دیا جاتا۔
فیصل چوہدری نے کہا کہ نو مئی سے متعلق مقدمات اب اپنی قانونی اور اخلاقی حیثیت کھو چکے ہیں، تاہم حکومت انہیں مسلسل موضوعِ بحث بنا کر اپنی ناکامیوں اور ناقص کارکردگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت شدید معاشی اور انتظامی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، مگر حکمران طبقہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دینے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے حکومت کی سمت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس نہ کوئی واضح منزل ہے اور نہ ہی عوام کو درپیش مسائل سے نمٹنے کا کوئی سنجیدہ منصوبہ۔ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بحرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، لیکن ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی مقدمات کو بنیاد بنا کر ماحول کو مزید کشیدہ کیا جا رہا ہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے سیاسی درجہ حرارت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن، دونوں جانب تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، ایسے میں فضا کو ٹھنڈا کرنے کی ہر کوشش قابلِ ستائش ہونی چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوٹ لکھپت جیل سمیت مختلف جیلوں میں قید سیاسی کارکنان کی رہائی پر غور کیا جائے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی قانون کے تقاضوں کے مطابق جو ریلیف بنتا ہے، وہ دیا جانا چاہیے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو انتقامی کارروائیوں میں بدلنے کے بجائے مفاہمت اور آئینی راستے اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل چوہدری کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔