data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-01-15
لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو نوبل پرائز دینے کی سفارش کرنے والے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں،امریکی صدر ٹرمپ خطے کے دیگر ممالک کولمبیا، کیوبا اور میکسیکو کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں، بلکہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگلا ٹارگٹ کولمبیا کے صدر ہوںگے۔نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے لاہور اور اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے عہدیداران کا اجلاس 12 جنوری اور 14 جنوری کو طلب کرلیا ہے، مشاورتی اجلاس میں سالانہ سرگرمیوں کے شیڈول اور مرکزی مجلس عاملہ اجلاس کے لیے سفارشات تیار کی جائیں گی۔ لیاقت بلوچ نے ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی سے ملاقات میں کہا کہ ملی یکجہتی کونسل اپنے دستور کے دائرے میں ہر محاذ پر فعال کردار ادا کرے گی۔ مملکت خداداد پاکستان کے اسلامی نظریاتی کردار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے گی۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر آزاد ملک وینزویلا پر حملہ،منتخب صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنا خود امریکی آئین کی خلاف ورزی کی ہے، اور اب اِس سے بڑھ کر امریکی صدر ٹرمپ خطے کے دیگر ممالک کولمبیا، کیوبا اور میکسیکو وغیرہ کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں، بلکہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگلا ٹارگٹ کولمبیا کے صدر ہوںگے۔ ٹرمپ کے اِس پاگل پن کو دیکھ کر اْمید ہے کہ انہیں امن کا نوبل پرائز دینے کی پرزور اور بار بار سفارش کرنے والے پاکستانی حکمرانوں کی آنکھیں اب کھل گئی ہونگی۔ دْنیا بھر کے جمہوریت و انصاف پسند ممالک کے عوام اور حکومتوں نے ایک آزاد خودمختار ملک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ایک منتخب صدر کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت اور اس کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ خود امریکا کے اندر اس غیرآئینی، غیرانسانی کارروائی کے خلاف شدید نفرت کے اظہار کے طور پر عوامی مظاہرے ہوئے ہیں ،نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے واضح الفاظ میں صدر ٹرمپ کے اس عمل کو خود امریکا اور بالخصوص نیویارک کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دْنیا کے مختلف ممالک میں موجود قدرتی وسائل، تیل، معدنیات پر ناجائز قبضے کے لیے فوجی جارحیت عرصہ دراز سے امریکا کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مختلف نوعیت کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے اور پھر اْس کے وسائل پر قابض ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عراق میں صدام حکومت کا تختہ اْلٹنا اور مشرقِ وسطٰی میں طویل عرصے سے جاری خونریزی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ فلسطین پر اسرائیلی صہیونی ظلم اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوج کی طرف سے قیامت خیز جرائم اور مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے امریکا، اسرائیل، بھارتگٹھ جوڑ کے تحت جنگ کے نئے محاذ کھولے جارہے ہیں۔ نئی عالمی صف بندی میں امریکا، بھارت، اسرائیل کو ظلم سے روکنے کے لیے عالمی برادری کو جرأتمندانہ اقدامات کرنے ہوںگے،امریکی سینیٹ، کانگریس اور امریکی نظامِ عدل صدر ٹرمپ کے غیرآئینی اقدامات، جنگوں کو توسیع دینے کے جرم میں مواخذہ کریں۔لیاقت بلوچ سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور سیاسی بحران کے حل کے لیے قومی ترجیحات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پی ٹی آئی اپوزیشن کی اہم پارٹی ہے لیکن اْن کے اپوزیشن سے مذاکرات، ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے مؤقف اْلجھے ہوئے ہیں اور کسی واضح اقدام کے لیے وہ تیار نہیں۔ ملکی سیاسی منظرنامے میں سیاسی اتحاد بنانا بے کار مشق بن گیا ہے۔ آئین، جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، عدلیہ کی آزادی کی بحالی اور وفاق و صوبوں کے درمیان پائیدار، بااعتماد تعلقات قائم کرنے کی ترجیحات پر اپوزیشن قیادت کو دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ سیاسی المیوں کے خاتمے کے لیے سیاسی قیادت اور جماعتوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اقتدار کے حصول کے لیے کوئی پارٹی ماضی کی غلطی نہیں دْہرائے گی اور سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار نہیں بنے گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے ٹرمپ کے کے لیے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی