آستانہ عالیہ نقشبندیہ عبیدیہ اسلام آباد کے 29ویں سالانہ عرسِ پاک و پیغامِ عشقِ رسول کی تین روزہ تقریبات اختتام پذیر WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)آستانہ عالیہ نقشبندیہ عبیدیہ اسلام آباد کے 29 ویں سالانہ عرسِ پاک و پیغامِ عشقِ رسول کی تین روزہ تقریبات اختتام پذیر ہو گئی۔ سجادہ نشین آستانہ عالیہ نقشبندیہ عبیدیہ پیر طریقت رہبر شریعت عالمی مبلغ اسلام خواجہ عبید احمد عبید نقشبندی مجددی کی زیر صدارت اور صاحبزادہ حافظ محمد نعمان عبید نقشبندی کی زیر نگرانی، سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی، حضور غوث الاعظم حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور غوث زمان حضرت خواجہ میاں نظام الدین کیانوی تاجدار کیاں شریف کی یاد میں منعقد ہونے والے 29 ویں سالانہ عرسِ پاک و پیغامِ عشقِ رسول کی تقریبات میں ملک بھر سے علما کرام مشائخ عظام کی بہت بڑی تعداد اور عوام نے شرکت کی جس کے مہمان خصوصی سی ڈی اے مزدور یونین کے قائد چوہدری محمد یاسین تھے، جبکہ عالمی مبلغ اسلام پیر میاں مفتی خبیب احمد نظامی نقشبندی سجادہ نشین آستانہ عالیہ کیاں شریف کی خصوصی آمد،علامہ پیر سید امتیاز حسین شاہ کاظمی خطیب دربار حضرت بری امام سرکار، علامہ پیر سید جابر حسین شاہ توروی سجادہ نشین آستانہ عالیہ توری شریف، مولاناابوالفضل الحاج عبدالغنی نقشبندی صدر تنظیم علما ضیا العلوم العالمی، مفسر قرآن علامہ مفتی محمد خطیب مصطفائی شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ نظریہ اسلام آباد کے علاوہ صاحبزادہ نقیب الرحمن، مولانا اسلم جوھڑوی، علامہ اعجاز خلیل چشتی، مولانا محمد عارف نقشبندی، علامہ راحیل احمد ستی، قاری عبدالمسجود سیالوی، صاحبزادہ امتیاز احمد مہروی، علامہ جلال حیدری، مفسر قرآن علامہ مفتی محمد خطیب مصطفائی، شیخ الحدیث جامع اسلامیہ نظیریہ اسلام آباد، ناظم خان پور راجہ ہارون، سکند استاد العلما علامہ پیر سید عبداللہ شاہ الحسینی، پیر سید وسیم ممتاز شاہ کاظمی، صاحبزادہ قاری زاہد بن جیلانی، مفتی محمد بابر ضیائی، مولانا مفتی ذیشان حسین رضوی، مولانا مفتی عبدالرزاق ضیائی، مولانا اسد محمود عباسی ضیائی، سید رفیع الدین کاظمی، علامہ طلحہ وحید قریشی، معروف نقیب ملک یاسر ہارونی، پیر سید شاہد حسین شاہ، خواجہ احسن فیاض، قاری حماد مدنی، ڈاکٹر نور عالم عبیدی، پروفیسر نسیم الرحمن نقشبندی، مولانا محمد حارث ستی عبیدی، مولانا توحید احمد ستی، مولانا قاری محمد فیصل حیدری، مولانا قاری گلزار ا حمد مدنی، مولانا قاری محمد اسحاق نورانی، مولانا قاری فضل الرحمن ہارونی، قاری عمر دراز عطاری، حافظ یاسر جنجوعہ گوجر خان، سید علی شاہ، قاری عمر نواز الازہری، مفتی نوید احمد سیالوی، پروفیسر ڈاکٹر شہباز علی عباسی، مولانا فرمان الہی مہروی، مولانا رمیض عاشق ضیائی، علامہ ممتاز احمد ہارونی، علامہ ممتاز احمد ہارونی، تحصیلدار آفتاب احمد ستی، قاری محمد ایاز منہاس، قاری تصدق حسین نقشبندی، بدرالاسلام قادری، علامہ ہارون عباس ضیائی، خطیب کوہسار علامہ مفتی عتیق الرحمن سیالوی نیو مری، صاحبزادہ علامہ قاری عبدالاسلام جیلانی پرنسپل مدرسہ قطب شہید، مولانا حافظ نور خان سیالوی، مولانا حافظ محمد نذیر کھوکھر، مولانا یاسر سیالوی، مولانا اسامہ نذیر چشتی، مولانا حافظ محمد اکرم چشتی، مولانا املاک حسین مہروی، مولانا قمر الزمان موھڑوی، مولانا حافظ عمران مالک نقشبندی، مولانا محمد ہارون قریشی، مولانا حبیب الرحمن، صاحبزادہ قاری محمد زاہد جیلانی، مولانا سفیر احمد چشتی، قاری تصدق حسین نقشبندی، علامہ سید فیض الدین شاہ کاظمی، حافظ سماک رضا عطاری، انٹرنیشنل نقیب محفل شیراز عرفات راولپنڈی، مولانا حافظ محمد منشا ستی عبیدی، مفتی محمد کاشف رضا قادری عطاری، حافظ محمد محسن ضیائی، مولانا جمیل احمد ستی، صاحبزادہ امتیاز احمد نقشبندی، قاری احمد نواز قادری، حافظ انعام الحق اعوان، حافظ ندیم احمد قادری، قاری خلیق زمان نقشبندی، عباس علی اشرف عبیدی، عمر جلیل ستی سمیت علما اکرام مشائخ عظام ثنا خوانان رسول سمیت کثیر تعداد میں شمع رسالت کے پروانوں نے شرکت کی۔ پیر میاں مفتی محمد خبیب نظامی نے کشمیر، فلسطین،پاکستان اورامت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کرائی۔ عرس پاک کی محفل میں جماعت اہلسنت پاکستان مرکزی بزم عاشقانِ رسولۖ، جمعیت علمائے پاکستان، مرکزی جلوس میلاد کمیٹی، تنظیم علمائے اہلسنت بھارہ کہو بزم عبیدیہ پاکستان کے کارکنوں عہدیداران کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔سی ڈی اے مزدور یونین کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری محمد سرفراز ملک او ر ڈپٹی جنرل سیکرٹری اسد محمود نے تمام انتظامات کی نگرانی کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسوڈان اور پاکستان میں طویل مدتی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات ہیں ،صالح محمد احمد سوڈان اور پاکستان میں طویل مدتی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات ہیں ،صالح محمد احمد سابق صدر فیصل آباد چیمبرآف کامرس ڈاکٹر خرم طارق کی ملائیشین ہائی کمشنر سے ملاقات این سی سی آئی اے کی بڑی کارروائی، خواتین کو ہراساں کرنے والا ملزم راولپنڈی سے گرفتار دہشت گردی کے خلاف لڑائی پوری قوم کی جنگ، خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں: پاک فوج وفاقی حکومت نے نومبر 2025 میں 573 ارب قرض لیا، مجموعی قرض کتنا ہوگیا؟ مونس الہٰی کے اثاثے ضبط کرنے کیخلاف درخواست پر نیب سے جواب طلب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: آستانہ عالیہ نقشبندیہ عبیدیہ اسلام آباد کے پاک و پیغام سالانہ عرس رسول کی

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت