نائٹ آپریشن یا ویڈیو گیم؟ بھارتی فوج کی تشہیری ویڈیو کا سوشل میڈیا پر مذاق
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بھارتی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک حالیہ تشہیری ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کرلی ہے، مگر یہ توجہ تعریف سے زیادہ تنقید اور طنز کی صورت میں سامنے آئی۔
بھارتی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک انفارمیشن نے یہ مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جو سرکاری اکاؤنٹ ADGPI Indian Army سے جاری کی گئی۔ پوسٹ کے ساتھ طاقت، فیصلہ کن کارروائی اور خفیہ آپریشنز سے متعلق علامتی جملے بھی تحریر کیے گئے۔
ویڈیو میں رات کے وقت مسلح فوجی اہلکاروں کو اندھیرے میں پیش قدمی کرتے دکھایا گیا ہے۔ مناظر میں سب سے نمایاں چیز اہلکاروں کے ہتھیاروں پر لگی روشن لیزر لائٹس ہیں، جو واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو کے اندر شامل تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہدف پر پڑنے والی لیزر محض انتباہ نہیں بلکہ حتمی فیصلے کی علامت ہے، جبکہ ایک اور سطر میں رات پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو 4 جنوری 2026 کو شیئر کی گئی اور مختصر وقت میں ہزاروں صارفین نے اسے دیکھ لیا، تاہم اندازِ پیشکش اور عسکری علامتوں کے استعمال نے اسے تعریف کے بجائے بحث کا مرکز بنا دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کو عسکری حقیقت کے تناظر میں پرکھنا شروع کیا، جس کے بعد یہ پوسٹ طنزیہ تبصروں اور سخت تنقید کی زد میں آگئی۔ بنیادی اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ رات کے وقت اسلحے پر اس طرح کی لیزر لائٹس کا استعمال فوجی اہلکاروں کی پوزیشن ظاہر کرسکتا ہے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ امریکا میں رہنے والا ایک عام شہری ہے جو کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، مگر اس کے پاس موجود ہتھیار اور سازوسامان اس ویڈیو میں دکھائے گئے سامان سے کہیں بہتر ہیں۔
کسی نے اسے بالی وڈ فلموں سے تشبیہ دی، تو کسی صارف کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو 13 سال کے بچوں کو متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
ایک اور تبصرے میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا نائٹ وژن آلات کے بجائے لیزر استعمال کرنا وسائل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے؟
ایکس صارف جے دیو جاموال نے بھی ویڈیو پر سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ اگر واقعی رات کی کارروائی دکھائی جا رہی ہے تو اہلکاروں کے پاس نائٹ وژن یا جدید بصری آلات نظر کیوں نہیں آ رہے؟ ان کے مطابق اسلحے پر لگی روشن لیزر سیکڑوں میٹر دور سے دیکھی جا سکتی ہے، جو کسی خفیہ کارروائی کے تصور کے خلاف ہے۔
اس کے جواب میں ایک صارف نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک سینماٹک اور تشہیری ویڈیو ہے، کسی حقیقی یا خفیہ فوجی آپریشن کی فوٹیج نہیں۔
ایک اور صارف نے مزید سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے، جس میں بندوقوں پر اسٹار ٹریک جیسی لیزر دکھائی گئی ہیں۔ اس کے مطابق حقیقی سرخ نقطے والی لیزر سائٹس فضا میں اس طرح نظر نہیں آتیں جب تک دھواں، دھند یا کوئی ٹھوس ہدف موجود نہ ہو، اس لیے ویڈیو میں دکھائی گئی لیزر عملی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
معاملہ یہیں نہیں رکا، بلکہ ایک صارف نے ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک سے بھی سوال کیا کہ ویڈیو میں مسئلہ کیا ہے۔ گروک نے جواب دیا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سرخ لیزر سائٹس رات کے وقت فوجیوں کی پوزیشن دشمن پر ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ حقیقی عسکری حکمتِ عملی میں خصوصی دستے نائٹ وژن آلات کے ساتھ نظر نہ آنے والی انفرا ریڈ لیزرز استعمال کرتے ہیں۔ گروک کے مطابق یہ ویڈیو تشہیری مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، مگر عسکری اعتبار سے درست عکاسی نہیں کرتی۔
ایک اور طنزیہ تبصرے میں کہا گیا کہ دو افراد پر مشتمل گشت کے دوران رائفل پر لائٹ سیبر جیسی روشنی لگانا رات کے وقت پاکستانیوں کے ہاتھوں مارے جانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔
تاحال انڈین فوج یا اس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس شدید ردِعمل پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ویڈیو بدستور سوشل میڈیا پر موجود ہے اور اس پر تنقید، سوالات اور طنزیہ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا رات کے وقت ویڈیو میں یہ ویڈیو ایک اور کی گئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔