کراچی: پاک کالونی مقابلے میں مارے گئے تین ڈاکو 35 مقدمات میں ملوث نکلے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے پاک کالونی تھانے کے علاقے جہان آباد کے ایم سی کٹ کے قریب پیر اور منگل کی درمیانی شب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلے میں تین خطرناک ملزمان ہلاک ہو گئے، جو ڈکیتی کے 35 سے زائد مقدمات میں پولیس کے انتہائی مطلوب تھے، ہلاک ملزمان کے نام حنیف، گلاب اور سلیمان بتائے گئے ہیں، جن کا تعلق لیاری کے معروف گینگ وار سے تھا۔
ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ مقابلے کے بعد ملزمان کے قبضے سے تین پستول، گولیاں اور موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں۔ ہلاک ملزمان کی سابقہ مجرمانہ سرگرمیوں کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ گروہ شہر بھر میں بینکوں سے رقم نکلوانے والے شہریوں کو لوٹنے اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا۔
ملزمان کی حرکتیں سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی ریکارڈ ہو گئی ہیں، جس میں گلاب کو بینک میں شہریوں کی ریکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان واردات سے قبل اپنے گروپ کے کسی رکن کو پیشگی جائزہ لینے کے لیے بینک بھیجتے تھے۔ ایک تازہ واقعے میں یہ گروہ ماڑی پور کے نجی بینک کے باہر شہری سے ڈیڑھ لاکھ روپے چھین چکا تھا۔
حنیف بلوچ ہلاک ملزمان میں سب سے زیادہ سرگرم اور لیاری گینگ وار کا اہم کارندہ تھا، جبکہ گلاب شہریوں کی ریکی اور وارداتوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔ ایس ایس پی کیماڑی نے کہا کہ ہلاک شدگان پر شہریوں کو لوٹنے، شاپ رابری، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور پولیس پر فائرنگ سمیت متعدد سنگین مقدمات درج ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک شدگان کے مزید مجرمانہ ریکارڈ کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ دیگر جرائم میں ممکنہ ملوث افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ مقابلے کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اور پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے گشت میں مصروف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔