کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے اس معاملے میں کہا کہ کسی کو بھی عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) دہلی میں طلباء کے ایک گروپ نے یونیورسٹی کیمپس کے اندر وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف متنازعہ نعرے لگائے۔ طلباء کی ناراضگی اس وقت سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی 2020ء دہلی فسادات کی سازش کیس میں ضمانت مسترد کردی۔ احتجاج کی ایک مبینہ ویڈیو کے مطابق نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی مذمت کرتے ہوئے نعرے لگائے گئے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی صدر ادیتی مشرا نے کہا کہ ہر سال طلباء کیمپس میں پانچ جنوری 2020ء کو ہونے والے تشدد کی مذمت کے لئے احتجاج کرتے ہیں۔

ادیتی مشرا نے بتایا کہ احتجاج میں لگائے گئے تمام نعرے نظریاتی تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نعرے کسی پر ذاتی طور پر حملہ نہیں کرتے، ان کا رخ کسی کی طرف نہیں تھا۔ اس دوران ایک سینیئر پولیس افسر نے واضح کیا ہے کہ نعروں کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ پانچ جنوری 2020ء کو کیمپس میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اس دن نقاب پوش افراد کے ایک ہجوم نے کیمپس پر دھاوا بول دیا تھا جس میں تین ہاسٹلوں میں طلباء کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ شرپسندوں نے لاٹھیوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں سے حملے کئے تھے۔ اس حملے میں ہاسٹل میں طلباء کو مارا پیٹا گیا تھا اور ہاسٹل کی کھڑکیاں، فرنیچر اور ذاتی سامان توڑ دیا گیا تھا۔

اس حملے میں کیمپس میں تقریباً دو گھنٹے تک افراتفری کے دوران جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت کم از کم 28 افراد زخمی ہوگئے۔ کیمپس میں شرپسندوں کے حملے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کئے جانے پر دہلی پولیس پر تنقید کی گئی تھی۔ خاص طور سے تب جب پولیس نے کیمپس میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو ایف آئی آر میں گھوش سمیت طلبہ یونین کے رہنماؤں کا نام شامل کیا تھا۔

جے این یو کیمپس میں نریندر مودی اور مرکزی داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ نعرے بازی پر، مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ جے این یو "ٹکڑے ٹکڑے گینگ" کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وویکانند نے کہا تھا کہ زعفران ہی غالب رہے گا۔۔۔میں "ٹکڑے ٹکڑے گینگ" کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے لوگوں کی حمایت کرتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کے حامی جذبات کو ہوا دی وہ غدار ہیں۔

کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے اس معاملے میں کہا کہ کسی کو بھی عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے، لیکن میں خبر جیسے الفاظ کا استعمال قابل قبول نہیں سمجھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ طالب علم ہیں، انہیں احتجاج کا حق ہے، اگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ جن دو لوگوں کو بھی ضمانت نہیں دی گئی ہے، انہیں ضمانت ملنی چاہیئے تھی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ دوسرے لوگوں کی بڑی تعداد بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہے لیکن اس قسم کی زبان استعمال کرنا قابل اعتراض ہے۔

واضح رہے دہلی ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بھی کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان دونوں کے معاملے کو دیگر ملزمان سے الگ قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے جانچ ایجنسیوں کو دہلی فسادات کیس میں جلدی ٹرائل ختم کرنے کی ہدایت دی ساتھ ہی عمر خالد اور شرجیل امام کو مزید ایک سال بعد ضمانت کے لئے درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمر خالد اور شرجیل امام نریندر مودی اور سپریم کورٹ نے کیمپس میں میں طلباء نے کہا کہ جے این یو کے خلاف امت شاہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ