WE News:
2026-06-02@23:57:37 GMT

چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کو کس مسئلے سے دوچار ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کو کس مسئلے سے دوچار ہے؟

چین کی ڈیپ سیک جو چیٹ جی پی ٹی جیسا چیٹ بوٹس بنانے والی نئی کمپنی ہے اس وقت عالمی سطح پر حکومتی نگرانی اور تشویش کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین دفاعی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟

کمپنی نے جنوری 2026 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایسا اے آئی ماڈل بنایا ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں کم قیمت اور تیز خدمات فراہم کرے گا۔

پرائیویسی اور سیکیورٹی خدشات

رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیپ سیک کی پرائیویسی پالیسی کے مطابق یہ کمپنی صارفین کی بہت سی ذاتی معلومات، جیسے اے آئی سے کیے گئے سوالات یا اپلوڈ کی گئی فائلیں، چین میں کمپیوٹرز پر ذخیرہ کرتی ہے۔ اس کے بعد مختلف ممالک نے اس کی ڈیٹا پروٹیکشن اور سیکیورٹی پالیسیوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔

سال2025  میں عالمی رد عمل کا جائزہ کچھ اس طرح ہے:

جنوری 2025

فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز نے ڈیپ سیک کے سسٹم اور پرائیویسی خطرات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔

اٹلی نے تحقیق ختم کی لیکن کمپنی سے بینڈنگ کمیٹمنٹس حاصل کیں تاکہ صارفین کو گمراہ کن معلومات کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔

نیدرلینڈز نے صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت دی اور حکومت کے ملازمین کے لیے اس کا استعمال ممنوع قرار دیا۔

فروری 2025

آسٹریلیا نےڈیپ سیک کو تمام حکومتی ڈیوائسز پر استعمال کرنے سے روک دیا۔

بھارت نے اپنے ملازمین کو چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ سرکاری معلومات کی حفاظت ہو سکے۔

مزید پڑھیے: چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک کا نیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل V3.

1 متعارف

جنوبی کوریا نے نئے ڈاؤن لوڈز پر پابندی لگا دی اور تائیوان نے حکومت میں ڈیپ سیک کے استعمال کو بند کر دیا۔

اپریل 2025

امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے ممکنہ پابندیوں پر غور کیا جس میں امریکی صارفین کو  ڈیپ سیک تک رسائی سے روکنا بھی شامل تھا۔

مزید پڑھیں: کیا چینی ایپ ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب ہے؟

9 امریکی قانون سازوں نے پینٹاگون کو خط لکھ کر ڈیپ سیک سمیت دیگر چینی کمپنیوں کو چینی فوج کے ممکنہ تعلقات کی فہرست میں شامل کرنے کا کہا۔

جون 2025

جرمنی نے ایپل اور گوگل کو ہدایت دی کہ وہ ڈیپ سیک کو اپنی ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔

جولائی 2025

چیک ریپبلک نے ملک کی پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی لگا دی۔

اگست 2025

7 امریکی ریپبلکن سینیٹرز نے وزارت تجارت سے کہا کہ وہ ڈیپ سیک اور دیگر چینی اے آئی ماڈلز کے ممکنہ ڈیٹا سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی اے آئی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک ڈیپ سیک کی مخالفت ڈیپ سیک مشکل میں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کا جائزہ ڈیپ سیک اے ا ئی

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟