استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق اس پالیسی کا اعلان پیر کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے کیا گیا۔
یہ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز کے اشتراک سے تیار کی ہے، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ماڈلز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو سے بنگلہ دیش کے ایئر چیف کی ملاقات
پالیسی کو صنعت و پیداوار سے متعلق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا، جس میں پالیسی کے مقاصد، پیش رفت اور نفاذ کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں مکمل درآمدی موبائل فونز کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ کے فوائد کا جائزہ بھی شامل تھا۔
ہارون اختر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
گلگت بلتستان کے نگراں وزراء اور مشیروں نے عہدوں کا حلف اٹھالیا
پالیسی فریم ورک کے تحت لازمی برآمدی اہداف کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور آٹو سیکٹر کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز کی شرائط نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ برآمدات کے لیے معیار کی تصدیق کو ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم اسے زبردستی نافذ کرنے کی بجائے سہولت فراہم کی جائے گی۔ پالیسی میں سرکاری سطح پر مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
پالیسی کے مطابق کارکردگی اہداف سے منسلک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ ای ڈی بی کو اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی تعداد مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جلد از جلد وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، ماریا کورینا
اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کٹ میں 40 جبکہ فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات لازمی ہوں گے۔ ویلیوایشن رولنگز کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجویز دی گئی ہے جس میں ای ڈی بی، پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور کسٹمز ویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ کی شمولیت ہوگی۔
انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل تیار شدہ موبائل فونز (سی بی یو) اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) کے نفاذ سے منسلک کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
سونا 3200روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4لاکھ 67ہزار962روپے ہو گئی
پالیسی میں سی بی یو اور ایس کے ڈی درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ٹی آئی ایف لیوی کے اطلاق کو دونوں اقسام کی درآمدات تک وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ای ویسٹ مینجمنٹ کو ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: موبائل فونز دی گئی ہے کیا گیا کرنے کی گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔