27ویں ترمیم قانونی حکمرانی پرحملہ ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد: انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی ۔
اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلامیے میں کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔
تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔
ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت ، بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہییں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباﺅیا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔
ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔
عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا موثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور موثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔
تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔
ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفادیا۔
عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔
تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں متعدد ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کی شکایات کیں ۔
ایمنسٹی نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا حوالہ بھی دیا جو اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھا گیا تھا، جس میں خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات، خفیہ ادارے کی جانب سے دباﺅ، ججوں کے اہل خانہ کے اغوا اور گھروں میں نگرانی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔
ایمنسٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنا پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا باعث بنتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایمنسٹی انٹرنیشنل عدلیہ کی آزادی اور قانون کی ایمنسٹی نے کے مطابق یہ ترمیم کی گئی کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی