Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:10:34 GMT

پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی کب تک خسارے میں رہے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی کب تک خسارے میں رہے گی؟

 

کراچی (نیوزڈیسک)ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔

یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔

ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135 ارب روپے میں سے صرف 7.

5 فیصد رقم پیشگی ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے 75 فیصد حصص حاصل کر لیتا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ پی آئی اے میں کی جائے گی۔

چونکہ یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا ہے، اس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے اور اس کے بدلے حصص ریاست کے پاس رہنے چاہئیں۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے خریدار کو مکمل 45 ارب روپے بغیر کسی رعایت کے ادا کرنا ہوں گے۔ یوں اگر وہ ایسا کرے تو مجموعی طور پر صرف 55 ارب روپے ادا کر کے تقریباً 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی میں ادارے کی قدر 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔ منطقی طور پر اسے صرف ایک تہائی حصص دیے جاتے اور باقی ریاست کے پاس رہنے چاہئیں تھے۔

یہ معاملہ بولی سے قبل جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا اور بظاہر فروخت کے بعد سامنے آیا۔ عوامی نقصان اور غیر شفاف عمل کے پیش نظر یہ کہنا کہ پی آئی اے کے بدلے جو کچھ ملا وہ کافی ہے، درحقیقت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا میں کسی بھی ایسے معاہدے میں ایسی عجیب شرائط دیکھنے میں نہیں آئیں۔ طنزیہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پی آئی اے کو OLX پر بیچنے سے زیادہ رقم مل جاتی!

اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے اپنے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا اور جو ملکی فضائی نظام میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

1990 کی دہائی میں بھی اس پر سستے داموں فروخت کے الزامات لگے تھے۔ لیکن خریداروں کو بھی ایک قومی اثاثے پر ایسا ناقص معاہدہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ یہی بات فوجی فرٹیلائزر کے معاملے پر بھی صادق آتی ہے، جس کے بارے میں بعض حلقے کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بولی سے الگ ہوئی تاکہ بعد میں اثر و رسوخ کے ذریعے کسی فاتح کے ساتھ شامل ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے متنازع مینڈیٹ اور وسیع تر ادارہ جاتی کردار نے اس سودے کو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے مزید قابلِ بحث بنا دیا ہے۔

خریداروں کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے اور نہ عالمی سطح کی مہارت۔ ایئر انڈیا کا خریدار ٹاٹا گروپ تھا، جس نے 1930 کی دہائی میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح کا ایک تجربہ کار گروپ ہے۔ کیا پی آئی اے کے خریدار اسے عالمی ادارے کے طور پر چلا سکیں گے؟ انہیں عملے کی چھانٹی، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، اس کے باوجود ان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقصان پی آئی اے کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہوچکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کی بنا پر؟

ماضی کی نجکاریوں میں مسائل کی بھرمار رہی۔ کم قیمت فروخت، بعد ازاں خراب کارکردگی، اجارہ داریاں، غیر شفاف سودے، مہنگی پیداوار اور بڑے پیمانے پر عملے کی برطرفیاں۔ کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کا کاروبار میں کوئی کام نہیں لیکن ریاست کو یہ بتانا بھی کاروباری طبقے کا کام نہیں۔ ریاست کو اُن شعبوں میں کاروبار کرنے کا پورا حق ہے جہاں نجی شعبہ بہتر طور پر کام نہیں کر سکتا، مثلاً اسٹریٹجک یا عوام دوست شعبے۔

ان مسلسل مسائل اور نجی شعبے کی محدود انتظامی و مالی صلاحیت کے پیش نظر دیگر آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جیسے خودمختار پیشہ ور بورڈز، صرف انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملازمین کی ملکیت والے ادارے، ادارے کو ختم کرنا یا حصص کی عوامی فروخت۔ ہر بیمار ادارے کے لیے بہترین راستہ واضح معیار اور شفاف عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔

نجکاری صرف اُن چھوٹے اداروں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جن کی کوئی قومی یا اسٹریٹجک اہمیت نہ ہو۔

اس سودے کے حامی کہتے ہیں کہ نجکاری سے پی آئی اے درست ہو جائے گی، دیگر سرکاری اداروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسے خوش نما دعووں کو احتیاط سے پرکھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں دیگر راستے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش