مذاکرات اس پارلیمنٹ کی چھٹی کرنے کے لئے ہوں گے؛ محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں، مذاکرات اس پارلیمنٹ کی چھٹی کرنے کے لیے ہوں گے۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے واضح کرتےہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں جیتے ہوئے لوگوں کو ہرایا گیا اور اگر 8 فروری سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں، مذاکرات اس پارلیمنٹ کی چھٹی کرنے کے لیے ہوں گے۔
تحریک تحفظ آئین کے سربراہ نے کہا کہ مذاکرات کس چیز پر کرنے ہیں 8 فروری کو 25 کروڑ عوام کی رائے بدل دی گئی، جو جیتے ان کو ہرایا گیا اور جو ہارے ان کو جتایا گیا اور اگر 8 فروری سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہی۔
ان کا کہنا تھاکہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہم مضبوط فوج چاہتے ہیں، جس طرح دنیا کے باقی ممالک کی افواج کام کرتی ہیں اسی طرح ہماری فوج بھی کام کرے، ہم بار بار کہہ رہے ہیں، یہ خطہ میدان جنگ بننے جا رہا ہے، کچھ دن پہلے ایک ملک کے سربراہ کو اس کی بیوی سمیت بیڈ روم سے اٹھایا گیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا تحفظ بھی اسی میں ہے آئین کے مطابق بات چیت کریں، بات چیت اس پر ہونی چاہیے کہ پارلیمینٹ بالا دست ہوگی، مذاکرات اس بات پر ہوں گے اس پارلیمیٹ کی چھٹی کرنی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مذاکرات اس کی چھٹی ہوں گے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔