ماحول اس وقت مذاکرات کا نہیں لگتا، بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ماحول اس وقت مذاکرات کا نہیں لگتا، ہماری پارٹی کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے مطابق ہر سیاسی جماعت کو سیاست کرنے کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جارہی، آرٹیکل 17 ٹو واضح کہتا ہے کہ ملک کی سالمیت کے خلاف کوئی سیاسی جماعت نہیں جاسکتی۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ اس آرٹیکل پر پارلیمنٹ میں بہت بحث ہوئی، پھر الیکشن ایکٹ بنایا گیا، الیکشن ایکٹ میں ایسی جماعت جو ملک کی سالمیت کے خلاف ہو اس کے خلاف تفصیلی ثبوت ہونا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ صرف الزام لگانا کافی نہیں باقاعدہ ثبوت سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں پیش کرنا ہوتے ہیں، ماحول اس وقت مذاکرات کا نہیں لگتا۔
بیرسٹر علی ظفر نے یہ بھی کہا کہ ہماری قیادت پر کیسز بنائے جا رہے ہیں، ورکرز پر تشدد کیا جا رہا ہے، مذاکرات کا ماحول بنانے کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ماحول بنا نہیں رہی تو اس لیے مذاکرات چل نہیں رہے، ایک موقف یہ بھی ہے کہ طاقت کے ذریعے ہی طاقتور کے ساتھ مذاکرات کا ماحول بناسکتے ہیں۔ ہمارے پاس عوام کی ایک بہت بڑی طاقت ہے، جس کو استعمال کرکے مذاکرات تک پہنچ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر مذاکرات کا نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔