ڈنمارک پر امریکی حملے کا خطرہ، کیا نیٹو اتحاد ٹوٹ رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: موجودہ یورپ امریکہ کے سامنے مزاحمت کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یہ اتنے بڑے نہیں ہیں کہ اس طرح سوچیں۔ یہ امن اور سلامتی کے نام پر امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے اور امریکہ کو یہ علاقہ کسی نام نہاد معاہدے کے نتیجے میں دے دیں گے۔ ڈنمارک کو بتا دیا جائے گا کہ بڑی بلا کو ٹالنے کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔ نیٹو تو ٹوٹ ہی جائے گی اور اگر رہے بھی تو اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔باہر کے ممالک حملہ کرکے جو حاصل کرتے ہیں، وہ نیٹو کا سپر اتحادی خود اپنے اتحادیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ سچ کہا گیا کہ امریکی دشمنی سے نہیں دوستی سے بچو۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
ایک سال قبل تک یہ تصور کرنا بھی کافی مشکل تھا کہ امریکہ نیٹو کے رکن ملک پر حملہ کرسکتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جو دفاعی نظام قائم کیا اور یورپ نے جسے من عن قبول کر لیا، اس میں امریکہ یورپ کے دفاع کا ذمہ دار ٹھہرا۔یورپ کو ہومیو پیتھیک قسم کی فوجی طاقت بننے کی اجازت دی گئی۔ یورپ میں فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے علاوہ سب ممالک کو انسانی حقوق اور امن کا امریکی تعویذ پلا کر نام نہاد مہذب بنا دیا گیا۔ یورپ کو بارڈ ختم کرنے اور باہمی تعاون کے فضائل سنائے گئے اور دفاع کے اخراجات کو غیر ضروری اور انسانی حقوق کے خلاف گردانا گیا۔ امریکی استعماریت کی ہر طرح سے خدمت کی گئی اور ہر وہ کام کیا گیا، جو امریکہ کی ممکنہ خواہش ہوسکتی تھی۔
یوں سمجھ لیں کہ یورپ امریکہ کے آگے دست بستہ کھڑا ہوگیا، جو امریکہ کہتا، وہ کر دیا جاتا۔ اب تک یہی چل رہا ہے، عملاً امریکی یورپ کو روس سے خوفزدہ کر رہے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی معیشت ایک جنگی معیشت ہے، جب تک جنگ جاری رہے گی، یہ معیشت ترقی کرتی رہے گی۔ ایک امریکی یونیورسٹی کے استاد اسلام آباد آئے ہوئے تھے، ایک ٹریننگ سیشن میں کہنے لگے کہ امریکی صدر ہر شعبہ زندگی میں امریکیوں کا تحفظ کرتا ہے۔ جنگی ساز و سامان کی انڈسٹری کے لوگوں کو مواقع کی فراہمی اور دنیا میں اس پر امریکی اجارہ داری بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہے۔ امریکی وزارت دفاع سے وزارت جنگ کی تبدیلی محض نام کی تبدیلی نہیں، جنگوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کا اعلان ہے۔
وینزویلا کے صدر کا اغوا ایک بین الاقوامی خبر بنا ہوا ہے۔ ہر طرف اسی کی بات ہو رہی ہے۔ اسی خبر کے ساتھ ٹرمپ کی سابق معاون کیٹی ملر نے ڈنمارک کے علاقے گرین لینڈ کی تصویر امریکی پرچم کے رنگوں میں شیئر کی اور کیپشن لکھا "SOON"، اس ٹویٹ کو بھی بین الاقوامی خبر بنا گیا یا بنا دیا گیا۔ واشنگٹن میں ڈنمارک کے سفیر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ڈنمارک کی ارضی سالمیت کا مکمل احترام کرے۔امریکی صدر بڑے عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گرین لینڈ ہر صورت میں درکار ہے۔رئرارتھ منرلز کی چمک ٹرمپ کو سونے نہیں دی رہی اور ڈوبتی امریکی معیشت کو انہیں ایک ممکنہ سہارا گرین لینڈ میں موجود یہ خزانہ لگ رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، دفاع کے لیے، معدنیات کے لیے نہیں۔
ڈنمارک کچھ نہیں کر پائے گا۔ ڈنمارک نے گرین لینڈ کی سکیورٹی کے لیے کیا کیا ہے۔؟ انہوں نے ایک کتوں والی گاڑی کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے اور انہیں لگا کہ یہ شاندار ہے۔ ہمیں سکیورٹی کے لیے گرین لینڈ چاہیئے اور یورپی یونین چاہتی ہے کہ ہم کارروائی کریں۔ اس حوالے سے اگلے بیس دن بہت اہم ہیں، آپ اب گرین لینڈ کی بات کریں۔ یہ امریکی صدر کا بیان ہے، جس میں نہ کوئی سفارتی لحاظ ہے اور نہ ہی ایک ملک کو توڑنے کی بات پر کسی قسم کی شرمندگی یا ندامت کا احساس ہے۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے درست کہا ہے کہ گرین لینڈ اور اس کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے انہیں ضم کرنے کی بات بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایک تاریخی اتحادی کے خلاف دھمکیاں بند کرنی چاہئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ محض بیان بازی نہیں بلکہ ایک حقیقی ارادہ ہے۔ ڈنمارک کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ڈنمارک اور خود گرین لینڈ دونوں اس خواہش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرچکے ہیں اور بارہا یہ کہا جا چکا ہے کہ گرین لینڈ امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ فریڈرکسن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے نیٹو کے کسی رکن ملک پر فوجی حملے کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے، یہاں تک کہ نیٹو اتحاد ہی ٹوٹ سکتا ہے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی سلامتی کا پورا نظام بکھر جائے گا۔ ان کے مطابق ایسا قدم سب کچھ ختم کر دے گا اور وہ اس ممکنہ تباہ کن صورتِ حال کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔
یہ صرف ڈنمارک کا موقف نہیں ہے، ٹرمپ جس گرین لینڈ کی بات کرتے ہیں، اس کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کو بتایا کہ بہت ہوچکا ہے۔ قبضے کے بارے میں تصور کرنا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکی صدر گرین لینڈ کو وینزویلا سے جوڑ کر فوجی مداخلت کی بات کرتے ہیں تو یہ نہ صرف غلط ہے، بلکہ گرین لینڈ کے لوگوں کی بے عزتی بھی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پریشانی یا خوف کی ضرورت نہیں، ہمارا ملک فروخت کے لیے نہیں اور ہمارا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس سے طے نہیں ہوتا۔ گرین لینڈ پر قبضے کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے جینز فریڈرک نے کہا، "مزید دباؤ نہیں، قبضے کا کوئی تصور نہیں۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیئے۔ گرین لینڈ ہمارا گھر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔"
لگ یہ رہا ہے کہ امریکی صدر یورپ کو روس سے ڈرائیں گے اور صرف گرین لینڈ کے بدلے انہیں تحفظ کے جھوٹے وعدے دیں گے۔ یورپ کے تمام ممالک امریکہ کے سامنے بے حیثیت ہوچکے ہیں، وہ آج جس ذلت کا سامنا کر رہے ہیں، یہ اسی کے مستحق ہیں۔ بہت عرصہ انہوں نے امریکی مظالم میں شریک ہو کر غریب ممالک کا استحصال کیا ہے۔ آج وہی زور، وہی دھونس اور وہی دھمکی ان کے دروازے پر آپہنچی ہے۔ موجودہ یورپ امریکہ کے سامنے مزاحمت کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یہ اتنے بڑے نہیں ہیں کہ اس طرح سوچیں۔ یہ امن اور سلامتی کے نام پر امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے اور امریکہ کو یہ علاقہ کسی نام نہاد معاہدے کے نتیجے میں دے دیں گے۔ ڈنمارک کو بتا دیا جائے گا کہ بڑی بلا کو ٹالنے کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔ نیٹو تو ٹوٹ ہی جائے گی اور اگر رہے بھی تو اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔باہر کے ممالک حملہ کرکے جو حاصل کرتے ہیں، وہ نیٹو کا سپر اتحادی خود اپنے اتحادیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ سچ کہا گیا کہ امریکی دشمنی سے نہیں دوستی سے بچو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرین لینڈ کی امریکی صدر کہ امریکی امریکہ کے انہوں نے کرتے ہیں ہیں اور رہے ہیں یورپ کو کے ساتھ کے لیے ہے اور رہا ہے کی بات
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.