Islam Times:
2026-07-24@06:39:08 GMT

ڈنمارک پر امریکی حملے کا خطرہ، کیا نیٹو اتحاد ٹوٹ رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

ڈنمارک پر امریکی حملے کا خطرہ، کیا نیٹو اتحاد ٹوٹ رہا ہے؟

اسلام ٹائمز: موجودہ یورپ امریکہ کے سامنے مزاحمت کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یہ اتنے بڑے نہیں ہیں کہ اس طرح سوچیں۔ یہ امن اور سلامتی کے نام پر امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے اور امریکہ کو یہ علاقہ کسی نام نہاد معاہدے کے نتیجے میں دے دیں گے۔ ڈنمارک کو بتا دیا جائے گا کہ بڑی بلا کو ٹالنے کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔ نیٹو تو ٹوٹ ہی جائے گی اور اگر رہے بھی تو اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔باہر کے ممالک حملہ کرکے جو حاصل کرتے ہیں، وہ نیٹو کا سپر اتحادی خود اپنے اتحادیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ سچ کہا گیا کہ امریکی دشمنی سے نہیں دوستی سے بچو۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ایک سال قبل تک یہ تصور کرنا بھی کافی مشکل تھا کہ امریکہ نیٹو کے رکن ملک پر حملہ کرسکتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جو دفاعی نظام قائم کیا اور یورپ نے جسے من عن قبول کر لیا، اس میں امریکہ یورپ کے دفاع کا ذمہ دار ٹھہرا۔یورپ کو ہومیو پیتھیک قسم کی فوجی طاقت بننے کی اجازت دی گئی۔ یورپ میں فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے علاوہ سب ممالک کو انسانی حقوق اور امن کا امریکی تعویذ پلا کر نام نہاد مہذب بنا دیا گیا۔ یورپ کو بارڈ ختم کرنے اور باہمی تعاون کے فضائل سنائے گئے اور دفاع کے اخراجات کو غیر ضروری اور انسانی حقوق کے خلاف گردانا گیا۔ امریکی استعماریت کی ہر طرح سے خدمت کی گئی اور ہر وہ کام کیا گیا، جو امریکہ کی ممکنہ خواہش ہوسکتی تھی۔

یوں سمجھ لیں کہ یورپ امریکہ کے آگے دست بستہ کھڑا ہوگیا، جو امریکہ کہتا، وہ کر دیا جاتا۔ اب تک یہی چل رہا ہے، عملاً امریکی یورپ کو روس سے خوفزدہ کر رہے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی معیشت ایک جنگی معیشت ہے، جب تک جنگ جاری رہے گی، یہ معیشت ترقی کرتی رہے گی۔ ایک امریکی یونیورسٹی کے استاد اسلام آباد آئے ہوئے تھے، ایک ٹریننگ سیشن میں کہنے لگے کہ امریکی صدر ہر شعبہ زندگی میں امریکیوں کا تحفظ کرتا ہے۔ جنگی ساز و سامان کی انڈسٹری کے لوگوں کو مواقع کی فراہمی اور دنیا میں اس پر امریکی اجارہ داری بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہے۔ امریکی وزارت دفاع سے وزارت جنگ کی تبدیلی  محض نام کی تبدیلی نہیں، جنگوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کا اعلان ہے۔

وینزویلا کے صدر کا اغوا ایک بین الاقوامی خبر بنا ہوا ہے۔ ہر طرف اسی کی بات ہو رہی ہے۔ اسی خبر کے ساتھ ٹرمپ کی سابق معاون کیٹی ملر نے ڈنمارک کے علاقے گرین لینڈ کی تصویر امریکی پرچم کے رنگوں میں شیئر کی اور کیپشن لکھا "SOON"، اس ٹویٹ کو بھی بین الاقوامی خبر بنا گیا یا بنا دیا گیا۔ واشنگٹن میں ڈنمارک کے سفیر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ڈنمارک کی ارضی سالمیت کا مکمل احترام کرے۔امریکی صدر بڑے عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گرین لینڈ ہر صورت میں درکار ہے۔رئرارتھ منرلز کی چمک ٹرمپ کو سونے نہیں دی رہی اور ڈوبتی امریکی معیشت کو انہیں ایک ممکنہ سہارا گرین لینڈ میں موجود یہ خزانہ لگ رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، دفاع کے لیے، معدنیات کے لیے نہیں۔

ڈنمارک کچھ نہیں کر پائے گا۔ ڈنمارک نے گرین لینڈ کی سکیورٹی کے لیے کیا کیا ہے۔؟ انہوں نے ایک کتوں والی گاڑی کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے اور انہیں لگا کہ یہ شاندار ہے۔ ہمیں سکیورٹی کے لیے گرین لینڈ چاہیئے اور یورپی یونین چاہتی ہے کہ ہم کارروائی کریں۔ اس حوالے سے اگلے بیس دن بہت اہم ہیں، آپ اب گرین لینڈ کی بات کریں۔ یہ امریکی صدر کا بیان ہے، جس میں نہ کوئی سفارتی لحاظ ہے اور نہ ہی ایک ملک کو توڑنے کی بات پر کسی قسم کی شرمندگی یا ندامت کا احساس ہے۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے درست کہا ہے کہ گرین لینڈ اور اس کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے انہیں ضم کرنے کی بات بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایک تاریخی اتحادی کے خلاف دھمکیاں بند کرنی چاہئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ محض بیان بازی نہیں بلکہ ایک حقیقی ارادہ ہے۔ ڈنمارک کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ڈنمارک اور خود گرین لینڈ دونوں اس خواہش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرچکے ہیں اور بارہا یہ کہا جا چکا ہے کہ گرین لینڈ امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ فریڈرکسن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے نیٹو کے کسی رکن ملک پر فوجی حملے کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے، یہاں تک کہ نیٹو اتحاد ہی ٹوٹ سکتا ہے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی سلامتی کا پورا نظام بکھر جائے گا۔ ان کے مطابق ایسا قدم سب کچھ ختم کر دے گا اور وہ اس ممکنہ تباہ کن صورتِ حال کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

یہ صرف ڈنمارک کا موقف نہیں ہے، ٹرمپ جس گرین لینڈ کی بات کرتے ہیں، اس کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کو بتایا کہ بہت ہوچکا ہے۔ قبضے کے بارے میں تصور کرنا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکی صدر گرین لینڈ کو وینزویلا سے جوڑ کر فوجی مداخلت کی بات کرتے ہیں تو یہ نہ صرف غلط ہے، بلکہ گرین لینڈ کے لوگوں کی بے عزتی بھی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پریشانی یا خوف کی ضرورت نہیں، ہمارا ملک فروخت کے لیے نہیں اور ہمارا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس سے طے نہیں ہوتا۔ گرین لینڈ پر قبضے کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے جینز فریڈرک نے کہا، "مزید دباؤ نہیں، قبضے کا کوئی تصور نہیں۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیئے۔ گرین لینڈ ہمارا گھر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔"

لگ یہ رہا ہے کہ امریکی صدر یورپ کو روس سے ڈرائیں گے اور صرف گرین لینڈ کے بدلے انہیں تحفظ کے جھوٹے وعدے دیں گے۔ یورپ کے تمام ممالک امریکہ کے سامنے بے حیثیت ہوچکے ہیں، وہ آج جس ذلت کا سامنا کر رہے ہیں، یہ اسی کے مستحق ہیں۔ بہت عرصہ انہوں نے امریکی مظالم میں شریک ہو کر غریب ممالک کا استحصال کیا ہے۔ آج وہی زور، وہی دھونس اور وہی دھمکی ان کے دروازے پر آپہنچی ہے۔ موجودہ یورپ امریکہ کے سامنے مزاحمت کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یہ اتنے بڑے نہیں ہیں کہ اس  طرح سوچیں۔ یہ امن اور سلامتی کے نام پر امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے اور امریکہ کو یہ علاقہ کسی نام نہاد معاہدے کے نتیجے میں دے دیں گے۔ ڈنمارک کو بتا دیا جائے گا کہ بڑی بلا کو ٹالنے کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔ نیٹو تو ٹوٹ ہی جائے گی اور اگر رہے بھی تو اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔باہر کے ممالک حملہ کرکے جو حاصل کرتے ہیں، وہ نیٹو کا سپر اتحادی خود اپنے اتحادیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ سچ کہا گیا کہ امریکی دشمنی سے نہیں دوستی سے بچو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گرین لینڈ کی امریکی صدر کہ امریکی امریکہ کے انہوں نے کرتے ہیں ہیں اور رہے ہیں یورپ کو کے ساتھ کے لیے ہے اور رہا ہے کی بات

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ