ایران میں بڑھتی مہنگائی اور احتجاج، حکومت کا الیکٹرونک سبسڈی دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ایران میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ماہانہ الیکٹرونک امداد کے باوجود مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان محدود سطح پر مذاکرات کے ابتدائی رابطے شروع ہو گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو سبسڈی میں اضافے، تنخواہوں کی نظرِ ثانی اور کرنسی مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے فوری اقدامات تجویز کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں مظاہرے: امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی
ادھر سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی برقرار ہے اور انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر محدود کر دی گئی ہیں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاشی ریلیف کے عملی نتائج جلد سامنے نہ آئے تو احتجاج ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایسی صورت میں ایران کو اندرونی عدم استحکام اور بیرونی دباؤ، خصوصاً امریکا اور اسرائیل کی جانب سے، دونوں محاذوں پر سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
At least 35 people have been killed and 1,200 detained in Iran’s economic protestshttps://t.
— The Washington Times (@WashTimes) January 6, 2026
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملکی مالیاتی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مکالمے پر زور دیتے ہوئے معاشی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔
جبکہ ان کی حکومت نے شہریوں کے لیے ایک نئی ماہانہ امداد کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام گزشتہ 3 برسوں میں بدترین عوامی بے چینی کو کم کرنے کی براہِ راست کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق 10 جنوری سے حکومت ہر فرد کو 10 ملین ریال تقریباً 7 امریکی ڈالر کے مساوی الیکٹرونک کریڈٹ فراہم کرے گی، جو مخصوص کریانہ اسٹورز پر استعمال کیا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کو سنگین بحرانوں کا سامنا: مغربی میڈیا کا آیت اللہ خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف
یہ اقدام کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ہے، جہاں ماہانہ تنخواہیں بمشکل 150 ڈالر سے زائد ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کی قیادت شدید معاشی بحران کے باعث پھیلتے مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس صورتحال کو وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت کے سائے نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
NYT: Iran Offers Citizens $7 a Month in a Bid to Cool Protestshttps://t.co/lIJNMt23pi
— OSZ (@OpenSourceZone) January 6, 2026
حکام کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
3 جنوری کو امریکی خصوصی فورسز کی جانب سے مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری سے ایک دن قبل،صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی قیادت 28 دسمبر سے سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کو قتل کرتی ہے تو امریکا ان کی مدد کو آئے گا۔
تہران سے شروع ہو کر مغربی اور جنوبی شہروں تک پھیلنے والے یہ مظاہرے 23-2022 کی ملک گیر بے چینی جتنے وسیع نہیں، مگر انہوں نے تیزی سے معاشی مطالبات سے بڑھ کر مجموعی عوامی ناراضی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
مزید پڑھیں:
یہ صورتحال حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو گزشتہ سال ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران اور اس کے بعد ابھرنے والے قومی اتحاد کے جذبے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ تہران میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ٹرمپ یا اسرائیل جون کی طرح کوئی فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
ایران کی معیشت برسوں سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، تاہم ان حملوں کے بعد ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں شدید کمی آئی ہے۔
Protests are emerging again in Iran, this time triggered the county's economic freefall. And the site of the protests is the bazaar. The merchant class, traditionally conservative, is quite a significant stakeholder.
Something is brewing. Stay tuned.
pic.twitter.com/HY9bOzvTUX
— Kaveh Shahrooz کاوه شهروز (@kshahrooz) December 29, 2025
2025 میں ریال ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گیا، جبکہ دسمبر میں سرکاری افراطِ زر 42.5 فیصد تک پہنچ گیا۔
قیادت کی تشویش کے اظہار کے طور پر، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز اسلامی جمہوریہ کے دشمنوں پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ فساد کرنے والوں کو ان کی جگہ دکھائی جانی چاہیے۔
حکام نے دوہری حکمتِ عملی اپنائی ہے، ایک طرف معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دے کر مذاکرات کی یقین دہانی کرائی، جبکہ دوسری جانب بعض مظاہروں کو تشدد کے دوران آنسو گیس سے منتشر کیا گیا۔
مزید پڑھیں:
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایک ہفتے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے کم از کم 2 اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
جمعے کے روز ٹرمپ نے ایک بار پھر تشدد کی صورت میں مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم مکمل طور کارروائی کے لیے تیار بیٹھے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے اندرونی معاملات پر ٹرمپ کے بیانات بین الاقوامی اصولوں کے تحت تشدد، دہشت گردی اور قتل پر اکسانے کے مترادف ہیں۔
مزید پڑھیں:
دریں اثنا، لندن سے شائع ہونے والے اخبار انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ اگر احتجاجی تحریک سیکیورٹی فورسز پر حاوی ہو گئی تو ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای روس فرار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک انٹیلیجنس ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر یہ واضح ہو جائے کہ مظاہروں کو دبانے پر مامور فوج اور سیکیورٹی ادارے بغاوت کر رہے ہیں یا احکامات ماننے سے انکار کر رہے ہیں تو خامنہ ای تقریباً 20 معاونین اور اہلِ خانہ کے ساتھ تہران چھوڑ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسماعیل بقائی امریکا انڈیپنڈنٹ ایران ڈونلڈ ٹرمپ سپریم لیڈر صدر مسعود پزیشکیان علی خامنہ ای وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسماعیل بقائی امریکا انڈیپنڈنٹ ایران ڈونلڈ ٹرمپ سپریم لیڈر صدر مسعود پزیشکیان علی خامنہ ای وینزویلا مزید پڑھیں کی جانب سے ایران میں خامنہ ای ایران کے کے مطابق رہے ہیں کیا ہے کے لیے کہ اگر
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم