پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کیلئے لابنگ فرم استعمال کیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ سال پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے لابنگ فرم استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے لابنگ فرم کا استعمال کیا گیا۔ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے ان ملاقاتوں کے لیے صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی کی لابنگ فرم ایس ایچ ڈبلیو سے رابطہ کیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ لابنگ فرم کی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے 10 مئی کو آپریشن سندور پر امریکی حکام سے بات کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ یہ رابطہ جے شنکر، خارجہ سیکرٹری وکرم مصری، ڈپٹی این ایس اے پون کمار اور واشنگٹن میں بھارتی سفیر وینے کواٹرا نے کرنی تھیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جن امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے رابطہ کیا گیا ان میں وائٹ ہاؤس چیف آف سٹاف سوزی وائلز، امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گرییر اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکی گل شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد آپریشن سندور کی میڈیا کوریج پر بات کرنا تھا۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
بھارتی صحافیوں نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ بھارتی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ لابنگ فرم کی خدمات لینا معمول کی بات ہے۔ البتہ ترجمان نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ 10 مئی کو آپریشن سندور پر امریکی حکام سے بات کرنے کے لیے لابنگ فرم کو کیوں ہائر کیا گیا؟ ایک اور بھارتی صحافی نے لکھا کہ جے شنکر جے ڈی وینس اور پیٹر ہیگسیتھ سے براہ راست ملاقات کا بندوبست نہ کرسکے، اس لیے لابنگ فرم ہائر کرنا پڑی۔ حالانکہ بھارتی میڈیا انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو بس فون اٹھاتے ہیں اور امریکا میں کسی سے بھی بات کرلیتے ہیں۔
لاہور، شاہ محمود قریشی کی ضمانتوں پر ایک بار پھر سماعت ملتوی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: امریکی حکام سے ملاقاتوں ملاقاتوں کے لیے لیے لابنگ فرم بھارتی میڈیا کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔