آئی سی آئی پل پر بدترین ٹریفک جام سے معمولات زندگی مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈاکس کے علاقے ماڑی پور میں آئی سی آئی پل پر بدترین ٹریفک جام نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے۔ ماڑی پور روڈ پر آنے جانے والی مرکزی شاہراہیں شدید دباؤ کا شکار رہیں، جس کے باعث آئی سی آئی برج سے مرزا آدم خان روڈ سگنل تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کئی گھنٹوں تک سست روی کا شکار رہا۔عینی شاہدین کے مطابق آئی سی آئی برج کی جانب آنے والے سگنل پر مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں جمع ہو گئیں، جن کی وجہ سے ٹریفک کا بہاؤ مکمل طور پر متاثر ہوا۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ٹرک اور ٹریلر ڈرائیوروں نے متبادل اور تنگ راستوں سے گزرنے کی کوشش کی، جس سے اطراف کی سڑکوں پر بھی بدترین رش پیدا ہو گیا۔چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کی غلط سمت میں ڈرائیونگ نے ٹریفک نظام کو درہم برہم کر دیا۔ موٹر سائیکل سوار گاڑیوں کے درمیان پھنس کر رہ گئے جبکہ شدید رش اور طویل انتظار کے باعث کئی مسافر بسوں سے اتر کر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ماڑی پور روڈ صنعتی اور بندرگاہی ٹریفک کا مرکزی راستہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مال بردار گاڑیاں گزرتی ہیں، تاہم مؤثر ٹریفک مینجمنٹ اور اہلکاروں کی عدم موجودگی کے باعث آئے روز ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی آئی پل اور اس سے منسلک سڑکوں پر فوری طور پر ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے، مال بردار گاڑیوں کے اوقات کار کو منظم کیا جائے اور غلط سمت میں چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔