بجلی کی صوبائی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر کام جاری ہے ‘علی راشد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے سائنس و آئی ٹی علی راشد نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے میں عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی سے متعلق ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے سائنس و آئی ٹی علی راشد نے پیر کو چینی انورٹر مینوفیکچرر ‘ہومائلز’ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت توانائی کے شعبے میں ریگولیٹری ماحول کو بہتر بنانے کے لئے دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ بجلی کی صوبائی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر کام جاری ہے جبکہ اور ٹرانسمیشن کمپنی قائم کر دی گئی ہے۔ اس کے ذریعے صوبائی سطح پر بجلی کا نظام بہتر ہوگا۔ اور عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ صوبے کے پسماندہ اور قومی گرڈ سے دور علاقوں میں متبادل توانائی کے زریعے بجلی کی فراہمی پر بھی کام ہورہا یے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں بالخصوص چینی کمپنیوں کی جانب سے کراچی جیسے تجارتی شہر میں صنعتیں، اسمبلنگ یونٹس اور ڈسٹری بیوشن یونٹس قائم کرنے کو سراہتی ہے تاکہ مقامی مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات بھی کی جا سکیں۔ علی راشد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت اس وقت لاجسٹکس اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے اور نجی و سرکاری شعبوں کے اشتراک کا خیر مقدم کرے گی۔پاکستان میں سولر پاور کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے چینی انورٹر مینوفیکچرر ‘ہومائلز’ نے پاکستان میں شمسی توانائی استعمال کرنے والی رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتوں کے لیے ہائی ٹیک نظام متعارف کرایا ہے جس سے بجلی کی ذخیرہ اندوزی یعنی اسٹوریج کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ کمپنی نے پاکستانی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے پاکستان کی آٹوموٹو انڈسٹری سے وابستہ ‘سپر اسٹار’ اور انرجی سلوشنز کے شعبے میں نووارد کمپنی ‘ہیرسن انرجی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔