اسلام ٹائمز: فیلڈ مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ فردوسی اسٹریٹ اور امیر کبیر اسٹریٹ کے مغربی حصے سمیت کئی مقامات پر دکانیں کھلی تھیں اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھیں۔ اسکے علاوہ، منگل کی سہ پہر کے اوائل میں، موٹر سائیکل سواروں کے کئی درجن گروپوں کی موجودگی کیساتھ رے اسٹریٹ پر بے قاعدہ ٹریفک دیکھنے میں آئی۔ یہ موٹر سائیکل سوار مسلسل ہارن بجا کر علاقے کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، ان اقدامات نے مارکیٹ کی سرگرمیوں کے مجموعی رجحان کو متاثر نہیں کیا۔ مجموعی طور پر، فیلڈ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے اور تہران کی مارکیٹ کو ہڑتال یا کشیدگی کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ختم ہوچکی ہیں اور تہران کی مارکیٹ نے کام جاری رکھا ہوا ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

تسنیم کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں کے مقابلے بدامنی اور اجتماعات کی سطح میں ایک تہائی سے بھی کم کمی آئی ہے۔ تسنیم خبر رساں ادارے کے پولیٹیکل رپورٹر کے مطابق، ملک بھر سے تسنیم کے نامہ نگاروں کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی احتجاج اور پھر غیر ملکی سروسز کی آمد کے بعد احتجاج کو افراتفری اور سکیورٹی بدامنی میں بدلنے کے بعد گذشتہ دو تین روز سے ملک بھر میں سڑکوں پر حالات میں کمی واقع ہوئی ہے اور حالات مکمل طور پر پرسکون ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بدامنی اور اجتماعات کی سطح ابتدائی دنوں کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم ہوئی ہے اور یہاں تک کہ بکھرے ہوئے اجتماعات میں بھی بہت چھوٹے، غیر مقبول، البتہ تربیت یافتہ اور پرتشدد شرپسندوں کی موجودگی بہت واضح ہے۔

ملک میں صورتحال کو مکمل طور پر پرسکون ہوتے دیکھ کر امریکی حکام اور بعض اسرائیلی رہنماء گذشتہ 48 گھنٹوں سے میڈیا اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے بدامنی کو کم ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان گھنٹوں میں امریکیوں اور اسرائیلیوں کے تبصروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی سینیٹرز اور نیتن یاہو سمیت بعض اسرائیلی رہنماؤں کی منظر عام پر آمد ان تحریکوں میں سے ایک رہی ہے۔ غیر ملکی ایجنٹوں کی طرف سے کچھ فسادیوں کو مسلح کرنے کے باوجود بلوائیوں کو خود قتل کرنے کا منصوبہ بھی گذشتہ ایک دو دنوں میں ناکام ہوچکا ہے اور عوام کی عدم حمایت نے حالات کو پرسکون کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

کل رات تک، پولیس فورس کے 568 ارکان اور بسیج فورس کے 66 ارکان شرپسند فسادیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں۔ لوگوں کو فسادیوں سے الگ کرنے میں پولیس فورس کے زبردست تحمل کی وجہ سے کچھ معاملات میں سکیورٹی کے ان محافظوں کو چوٹیں بھی آئی ہیں۔ ان میں سے دو سیکیورٹی فورسز کو فوجی گنوں، 152 کو شاٹ گن کی گولیوں سے اور 11 کو چاقو سے زخمی کیا گیا گئی۔ تسنیم خبر رساں ایجنسی، تسنیم کے نامہ نگاروں کی طرف سے  منگل کو سہ پہر 3:00 بجے سے شام 4:30 بجے تک تہران کے بازار کے علاقے کی گلیوں سے کیے گئے فیلڈ مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ فردوسی اسکوائر اور امام خمینی اسکوائر سمیت چوکوں اور اہم مقامات پر قانون نافذ کرنے والے دستوں کی موجودگی دکھائی دے رہی تھی، جس کی اطلاع عام لوگوں کے لیے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تھی۔

اسی وقت، فیلڈ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ علاقوں میں، بشمول رے اسٹریٹ کے کچھ حصے اور امیر کبیر اسٹریٹ کے کچھ حصے، خاص طور پر گھریلو سامان کی فروخت سے متعلق کچھ گلڈ یونٹوں کی نسبتاً بندش دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ، ان گلیوں کے کچھ حصوں میں کوڑے کے ڈھیروں کو جلانے کے نشانات بھی دکھائی دے رہے تھے۔ تسنیم کے نامہ نگاروں کے مطابق دکانیں بند کرنے والے متعدد تاجروں کے ساتھ بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی مظاہروں کو سپورٹ کرنے سے زیادہ  اپنے نقصان کے خدشات کی وجہ سے کی گئی۔ کچھ جگہوں پر گلیوں کی سطح پر پتھر اور اینٹوں کے باقیات دیکھے گئے، جن سے ایسا لگتا ہے کہ حالات میں خرابی پیدا کرنے اور کاروباری ماحول کو غیر محفوظ بنانے کے مقصد سے چھوڑا گیا ہے۔

تاہم، جیسا کہ فیلڈ مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ فردوسی اسٹریٹ اور امیر کبیر اسٹریٹ کے مغربی حصے سمیت کئی مقامات پر دکانیں کھلی تھیں اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھیں۔ اس کے علاوہ، منگل کی سہ پہر کے اوائل میں، موٹر سائیکل سواروں کے کئی درجن گروپوں کی موجودگی کے ساتھ رے اسٹریٹ پر بے قاعدہ ٹریفک دیکھنے میں آئی۔ یہ موٹر سائیکل سوار مسلسل ہارن بجا کر علاقے کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، ان اقدامات نے مارکیٹ کی سرگرمیوں کے مجموعی رجحان کو متاثر نہیں کیا۔ مجموعی طور پر، فیلڈ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے اور تہران کی مارکیٹ کو ہڑتال یا کشیدگی کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ختم ہوچکی ہیں اور تہران کی مارکیٹ نے کام جاری رکھا ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تسنیم کے نامہ نگاروں موٹر سائیکل کی موجودگی اسٹریٹ کے کے مطابق کی طرف

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار