بڑے اسپتالوں کا رش کم کرنے کیلیے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں بڑے اسپتالوں کا رش کم کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔
وزارت صحت کے تعاون سے صحت کہانی کے زیر اہتمام پہلے ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے شرکت کی، جس میں انہوں نے کہا کہ آج ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے بہت بڑا دن ہے کیونکہ ہمارے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں سیاسی جلسوں کی مانند ہجوم نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مؤثر متبادل ٹیلی میڈیسن سسٹم ہے، جسے وفاقی بنیادی صحت مراکز میں شروع کر دیا گیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن سسٹم شعبۂ صحت میں ایک خاموش انقلاب ہے۔ اسلام آباد کے گوگینہ گاؤں میں ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں صحت کہانی ادارہ ڈیجیٹل صحت سہولیات فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیںہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے کیلئے پولیس ساتھ بھیجتے ہیں، مصطفیٰ کمال
ہیلتھ کیئر کا معاملہ نیشنل سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے، مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بڑے اسپتالوں میں آنے والے 70 فیصد مریضوں کو بنیادی صحت مراکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے 6 اور کراچی کے 4 مقامات پر ٹیلی میڈیسن سسٹم نصب کیا جا رہا ہے، جہاں مریضوں کو آن لائن کیمرے کے ذریعے بیک وقت 3 جنرل فزیشن دیکھیں گے جب کہ 6 مقامات پر مجموعی طور پر 18 ڈاکٹر آن لائن موجود ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق ٹیلی میڈیسن سسٹم کے تحت مریضوں کو آن لائن دوا کی پرچی جاری کی جائے گی اور انہیں وہیں سے دوا فراہم کی جائے گی، جس سے بڑے اسپتالوں کا رش کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً خواتین ڈاکٹرز، اس وقت پریکٹس نہیں کرتیں، اب وہ گھر بیٹھے مریضوں کا علاج کر سکیں گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے ہم نے یہ خواب دیکھا تھا اور آج یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج پہلے بی ایچ یو کا افتتاح کیا گیا ہے اور اس کے بعد ہر ہفتے ایک بی ایچ یو کا افتتاح کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں صبح سے شام 6 بجے تک مریضوں کا معائنہ کیا جائے گا اور وہ خود یہاں سرپرائز وزٹس بھی کرتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیلی میڈیسن سسٹم بڑے اسپتالوں نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔