اسلام آباد:

پاکستان میں بڑے اسپتالوں کا رش کم کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔

وزارت صحت کے تعاون سے صحت کہانی کے زیر اہتمام پہلے ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے شرکت کی، جس میں انہوں نے کہا کہ آج ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے بہت بڑا دن ہے کیونکہ ہمارے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں سیاسی جلسوں کی مانند ہجوم نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مؤثر متبادل ٹیلی میڈیسن سسٹم ہے، جسے وفاقی بنیادی صحت مراکز میں شروع کر دیا گیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن سسٹم شعبۂ صحت میں ایک خاموش انقلاب ہے۔ اسلام آباد کے گوگینہ گاؤں میں ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں صحت کہانی ادارہ ڈیجیٹل صحت سہولیات فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیں

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے کیلئے پولیس ساتھ بھیجتے ہیں، مصطفیٰ کمال

ہیلتھ کیئر کا معاملہ نیشنل سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے، مصطفیٰ کمال

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بڑے اسپتالوں میں آنے والے 70 فیصد مریضوں کو بنیادی صحت مراکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے 6 اور کراچی کے 4 مقامات پر ٹیلی میڈیسن سسٹم نصب کیا جا رہا ہے، جہاں مریضوں کو آن لائن کیمرے کے ذریعے بیک وقت 3 جنرل فزیشن دیکھیں گے جب کہ 6 مقامات پر مجموعی طور پر 18 ڈاکٹر آن لائن موجود ہوں گے۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق ٹیلی میڈیسن سسٹم کے تحت مریضوں کو آن لائن دوا کی پرچی جاری کی جائے گی اور انہیں وہیں سے دوا فراہم کی جائے گی، جس سے بڑے اسپتالوں کا رش کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً خواتین ڈاکٹرز، اس وقت پریکٹس نہیں کرتیں، اب وہ گھر بیٹھے مریضوں کا علاج کر سکیں گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے ہم نے یہ خواب دیکھا تھا اور آج یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج پہلے بی ایچ یو کا افتتاح کیا گیا ہے اور اس کے بعد ہر ہفتے ایک بی ایچ یو کا افتتاح کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں صبح سے شام 6 بجے تک مریضوں کا معائنہ کیا جائے گا اور وہ خود یہاں سرپرائز وزٹس بھی کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹیلی میڈیسن سسٹم بڑے اسپتالوں نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی