data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260107-01-27
واشنگٹن،کاراکاس(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں امریکا کی آئل کمپنیاں 18 ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال ہوکر اپنا کام شروع کرسکتی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 3 جنوری کی شب امریکی فوج نے وینزویلا کے صدارتی محل میں گھس صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈروم سے گرفتار کرکے نیویارک منتقل کیا۔صدر ٹرمپ نے امریکی چینل این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو بحال کرنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی جو امریکی تیل کمپنیاں کریں گی۔ان کے بقول یہ امریکی آئل کمپنیاں پہلے سرمایہ کاری کریں گی اور اس کے بعد امریکی حکومت یا تیل کی آمدنی کے ذریعے انہیں یہ رقوم واپس ادا کی جائے گی۔علاوہ ازیں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں امریکی حکومت اور بڑی تیل کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے۔دوسری جانب توانائی کے ماہرین ٹرمپ کے دعوے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کیوں کہ وینزویلا کی تیل پیداوار بحال کرنے کے لیے دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ وینزویلا میں تیل کی پیداوار کی مکمل بحالی میں 10 سال تک لگ سکتے ہیں جب کہ سیاسی استحکام کے بغیر غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری سے گریز کریں گی۔خیال رہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ ثابت شدہ تیل ذخائر (تقریباً 303 ارب بیرل) موجود ہیں مگر بدانتظامی، پابندیوں اور پرانی تنصیبات کے باعث پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا وینزویلا کیساتھ حالت جنگ میں نہیں، ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ وینزویلا میں اگلے 30 دن کے دوران نئے الیکشن نہیں ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کاکہناتھاکہ ہم وہاں فوری طور پر انتخابات نہیں کراسکتے کیونکہ اس وقت عوام کے لیے ووٹ ڈالنا بھی ممکن نہیں، ہمیں پہلے ملک کو دوبارہ سنبھالنا ہوگا اور اس میں وقت لگے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو دوبارہ وینزویلا بھیجنے کیلیے قانون سازی کی ضرورت نہیں، صدر ٹرمپ نے بتایاکہ امریکا وینزویلا میں طویل المدتی بنیادوں پر کردار ادا کرے گا اور مستقبل کے اقدامات مرحلہ وار کیے جائیں گے۔ٹرمپ کاکہنا تھا ہم وینزویلا کے ساتھ جنگ میں نہیں ہیں، ہم منشیات فروشوں کے خلاف جنگ میں ہیں، ان لوگوں کے خلاف جو اپنے قیدیوں، منشیات کے عادی افراد اور ذہنی مریضوں کو ہمارے ملک میں بھیجتے ہیں۔انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا سے متعلق معاملات کی نگرانی کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سمیت دیگر شامل ہیں۔علاوہ ازیںاقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز وینزویلا میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اس وقت اجلاس منعقد کیا جب مادورو کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔اپنے بیان میں گوتریس نے کہا کہ مجھے ملک میں ممکنہ طور پر عدم استحکام میں شدت، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قائم ہونے والی مثال پر گہری تشویش ہے۔جبکہ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکا نے امریکی فوج کی معاونت سے ایک محدود اور قانون نافذ کرنے کی کارروائی کے ذریعے دو مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جن میں مادورو اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔والٹز نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے،ہم کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہے۔اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے مادورو کو پکڑنے کی امریکی کارروائی کو ’ایک غیر قانونی مسلح حملہ‘ کہا جس کی ’قانونی توجیہ موجود نہیں۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کو بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے۔روس، چین اور کولمبیا نے امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔روس اور چین نے وینزویلا پر امریکی چڑھائی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روسی مندوب نے کہا کہ کراکس میں امریکی جرائم کا کوئی جواز نہیں، امریکا کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ خود کو کسی قسم کا اعلیٰ ترین منصف قرار دے اور کسی بھی ملک پر حملہ کرے۔روسی مندوب کا کہنا تھا کہ لا قانونیت کے دور اور طاقت کے زور پر امریکی بالادستی کی واپسی کا پیش خیمہ ہے۔اس کے علاوہ چینی مندوب نے کہا کہ کوئی بھی ملک نہ تو دنیا کا پولیس مین بن سکتا ہے اور نہ ہی خود کو عالمی منصف سمجھنے کا حق رکھتا ہے، طاقت کے اندھا دھند استعمال سے صرف مزید بڑے بحران جنم لیں گے،امریکا دھونس اور جبر پر مبنی اپنی پالیسیوں کو ترک کرے۔کولمبیا، جس نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس کی درخواست دی تھی، نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان نے وینزویلا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔عثمان جدون کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا واحد حل مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا منشور ہمیں اس امر کا پابند بناتا ہے کہ ہم کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہیں۔دوسری جانب سی آئی اے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مادورو کے بعد وینزویلا کی قیادت کے لیے حکومت کے وفادار عناصر سے متعلق رپورٹ پیش کردی۔امریکی میڈیا کے مطابق قیادت کے لیے موزوں افراد میں وینزویلاکی قائم مقام صدرڈیلسی روڈریگز کا نام بھی شامل ہے، یہ افرادوینزویلا میں استحکام برقرار رکھنے کیلیے سب سے بہترین پوزیشن میں ہوں گے۔قبل ازیںوینزویلا پر امریکی حملے کے بعد امریکیوں کے رائے سامنے آگئی جس میں ایک بڑی تعداد نے حملے کی مخالفت کی ہے۔خبر ایجنسی کے سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی وینزویلا پر امریکی حملے کے حامی ہیں جبکہ 72 فیصد امریکیوں کا خدشہ ہے کہ امریکا وینزویلا میں حد سے زیادہ ملوث ہو جائے گا۔سروے کے مطابق 65 فیصد ری پبلکن وینزویلا میں امریکی آپریشن کے حامی ہیں جبکہ ڈیموکریٹس میں یہ شرح 11 فیصد اور آزاد ووٹرز میں 23 فیصد ہے۔دریں اثناء وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچاڈو کا کہنا ہے کہ آزاد وینزویلا کو امریکا کا توانائی مرکز بنا دیں گے۔امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماریا کورینا مچاڈو کا کہنا تھا کہ جلد ازجلد وینزویلا واپس جانے کا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد وینزویلا کو امریکا کا توانائی مرکز بنا دیں گے، وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز بھی منشیات اسمگلنگ کے اہم کرداروں میں سے ہیں۔دوسری جانب امریکی حملے اور صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی سیاست میں نیا موڑ آ گیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلاکی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو سے رابطہ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘میرے خیال میں ماچاڈو کے لیے لیڈر بننا بہت مشکل ہوگا۔ ان کے پاس ملک کے اندر وہ عوامی حمایت یا احترام موجود نہیں ہے جو وینزویلا کی قیادت کے لیے ضروری ہے۔وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے وطن واپسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ملک میں امریکی کارروائی پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں ماچاڈو نے وینزویلا کے عوام کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ قانون کی بالادستی برقرار رکھنے میں ان کی ’سختی اور عزم‘ پر شکر گزار ہیں۔ماچاڈو نے کہا کہ ’وینزویلا کی آزادی قریب ہے اور ہم بہت جلد جشن منائیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ وینزویلا میں14 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ماچاڈو کا کہنا تھا کہ عبوری صدر رودریگیز پر ’بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔قبل ازیںوینزویلا میں پارلیمانی اجلاس کے دوران ڈیلسی رودریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ اس اجلاس کا آغاز معزول رہنما مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کے مطالبات سے ہوا۔ 56 سالہ رودریگیز نے کہا کہ انھیں مادورو اور ان کی اہلیہ کے مبینہ ’اغوا‘ پر شدید دْکھ ہے۔وہ 2018 سے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔کابینہ کے اجلاس کے دوران رودریگیز نے عندیہ دیا کہ ان کی حکومت امریکا کے ساتھ محدود تعاون پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی پر مبنی تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ کام کرے۔حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے رودریگیز نے کہا کہ انھوں نے یہ عہدہ ’درد کے ساتھ‘ سنبھالا ہے کیونکہ ملک کو ’غیر قانونی فوجی جارحیت‘ کا سامنا ہے۔انھوں نے ملک میں امن اور معاشی و سماجی استحکام لانے کا وعدہ کیا۔اجلاس کے دوران مادورو کے بیٹے نے بھی خطاب کیا اور اپنے والدین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’وینزویلا واپس آئیں گے۔انھوں نے رودریگیز کے لیے بھی ’غیر مشروط حمایت‘ کا اعلان کیا۔دوسری جانب وینزویلا کے معزول صدر کی اہلیہ سیلیا فلوریس کے وکیل مارک ای ڈونلی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مؤکل کو وینزویلا میں گرفتار ہونے پر ’شدید چوٹیں‘ لگی ہیں۔بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فلوریس کو عدالت میں نمایاں نیلوں کے ساتھ دیکھا گیا۔ڈونلی نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی پسلیوں پر فریکچر یا شدید چوٹ ہے اور جج نے پراسیکوٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ مناسب علاج کو یقینی بنائیں۔ڈونلی نے بی بی سی کو دیے گئے بیان میں کہا ہماری مؤکل کے حوصلہ بلند ہیں۔ ہم حکومت کے پاس موجود شواہد کا جائزہ لینے اور چیلنج کرنے کے منتظر ہیں۔ اگرچہ ہم ابھی اپنا موقف پیش کرنا چاہیں گے، ہم مناسب وقت پر عدالت میں پیش کرنے کا انتظار کریں گے۔ خاتون اوّل جانتی ہیں کہ آگے ایک طویل راستہ ہے اور وہ تیار ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مادورو اور ان کی اہلیہ کہ وینزویلا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاس کے دوران کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل ماریا کورینا رودریگیز نے نے وینزویلا وینزویلا کے وینزویلا کی کی کارروائی وینزویلا پر میں امریکی نے کہا کہ ا کرتے ہوئے نے امریکی کہ امریکا پر امریکی کے مطابق کی حکومت انھوں نے کا اظہار ٹرمپ کا طاقت کے کے خلاف کے ساتھ ملک میں ہے کہ ا ہے اور کے بعد کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار