وسائل کی ہوس میں دفن ہوتی انسانیت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-03-4
عمران احمد سلفی
تاریخ کے کچھ لمحے صرف سرحدیں نہیں بدلتے، وہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے لمحوں میں توپوں کی گھن گرج سے زیادہ مظلوموں کی آہیں سنائی دیتی ہیں، اور طاقت کے فیصلے کمزور قوموں کے مقدر پر مہر لگا دیتے ہیں۔ وینزویلا کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں قانون، اخلاق اور انسانیت کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا واقعی انصاف کی یہی صورت باقی رہ گئی ہے؟
اصل کہانی 1974 سے شروع ہوتی ہے، جب امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور سعودی عرب کے درمیان ایک خفیہ مگر فیصلہ کن معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت دنیا میں فروخت ہونے والا ہر بیرل تیل صرف امریکی ڈالر میں خریدا جائے گا، اور اس کے بدلے امریکا سعودی عرب کو عسکری تحفظ فراہم کرے گا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ڈالر کو عالمی معیشت کا محور بنا دیا۔ ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر درکار ہوا، امریکا نوٹ چھاپتا رہا اور دنیا کام کرتی رہی۔ یہی وہ نظام ہے جسے آج ہم پٹروڈالر سسٹم کہتے ہیں، اور یہی نظام امریکی طاقت کی اصل بنیاد ہے، نہ کہ طیارہ بردار جہاز، نہ فوجی اڈے، بلکہ کرنسی کا وہ جبر جو پوری دنیا پر مسلط کیا گیا۔
اب مسئلہ وینزویلا ہے۔ وینزویلا کے پاس 303 ارب بیرل تیل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، سعودی عرب سے بھی زیادہ اور دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 فی صد۔ مگر جرم یہ نہیں کہ اس کے پاس تیل ہے، جرم یہ ہے کہ اس نے ڈالر کو چیلنج کیا۔ وینزویلا نے ڈالر میں تیل بیچنا بند کیا، یوان، یورو اور روبل میں فروخت شروع کی، SWIFT نظام کو بائی پاس کیا، BRICS میں شمولیت کی کوشش کی، چین کے ساتھ براہ راست ادائیگی کے نظام قائم کیے۔ یعنی اس نے امریکی مالیاتی بالادستی کو للکارا۔ اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ 2000 میں صدام حسین نے اعلان کیا کہ عراق اب تیل یورو میں بیچے گا۔ 2003 میں عراق پر حملہ ہوا، صدام حسین کو پھانسی دی گئی، اور تیل دوبارہ ڈالر میں آ گیا۔ 2009 میں معمر قذافی نے سونے پر مبنی افریقی کرنسی ’’گولڈ دینار‘‘ کی بات کی۔ 2011 میں ناٹو نے لیبیا کو تباہ کر دیا، قذافی قتل ہوا، اور گولڈ دینار دفن ہو گیا۔ اور اب مادورو۔ صدام اور قذافی دونوں سے پانچ گنا زیادہ تیل، فعال ڈی ڈالرائزیشن، چین، روس اور ایران کے ساتھ شراکت۔ یہ اتفاق نہیں، یہ ایک واضح پیٹرن ہے۔ پیٹروڈالر کو چیلنج کرو، رجیم چینج کا سامنا کرو۔
3 جنوری 2026 کو اسی پیٹرن کے تحت ایک تاریخی اور متنازع فوجی کارروائی میں امریکا نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ اس آپریشن، جسے ’’آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو‘‘ کا نام دیا گیا، میں امریکی اسپیشل فورسز، بالخصوص ایلیٹ ڈیلٹا فورس نے حصہ لیا۔ 150 سے زائد طیارے، فائٹر جیٹس، بمبار ہیلی کاپٹرز اور سرویلنس ائرکرافٹ کاراکاس کی فضاؤں میں منڈلاتے رہے۔ فورٹ تیونا فوجی کمپلیکس اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، شہر اندھیرے میں ڈوب گیا، دھماکوں کی آوازیں فضا میں گونجتی رہیں، اور چند گھنٹوں کے اندر صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے امریکی بحری جہاز یو ایس ایس آئیوو جیما پر منتقل کر دیا گیا، جہاں سے انہیں نیویارک پہنچایا گیا۔ امریکا نے اسے قانون نافذ کرنے والا ایکشن قرار دیا، جنگ نہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ، نارکو ٹیررزم اور دیگر الزامات ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ منشیات کا شور صرف ایک پردہ ہے۔ اصل ہدف وینزویلا کا تیل اور ڈالر کی بالادستی ہے۔ امریکی عہدیدار کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ وینزویلا کا تیل دراصل امریکا کا ہے کیونکہ ایک صدی پہلے امریکی کمپنیوں نے وہاں کام کیا تھا۔ یعنی تاریخ کو ملکیت کا سرٹیفکیٹ بنا دیا گیا ہے۔
وینزویلا نے اسے غیر قانونی جارحیت قرار دیا۔ روس، چین، ایران اور کیوبا نے شدید مذمت کی۔ مغربی دنیا کا ایک حصہ خاموش رہا، کچھ نے خیر مقدم کیا۔ وینزویلا کے کچھ شہروں میں جشن بھی منایا گیا، مگر یہ جشن آزادی کا نہیں، ایک نئے عدم استحکام کا آغاز ہے۔ اصل مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے۔ پٹرو ڈالر پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے۔ روس یوکرین جنگ کے بعد روبل اور یوان میں تیل بیچ رہا ہے۔ ایران برسوں سے نان ڈالر تجارت کر رہا ہے۔ سعودی عرب یوان پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ چین نے SWIFT کا متبادل CIPS بنا لیا ہے۔ BRICS اپنا مالی نظام تشکیل دے رہا ہے۔ اگر وینزویلا اپنے 303 ارب بیرل تیل کے ساتھ BRICS میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ عمل کئی گنا تیز ہو جاتا ہے۔ اسی لیے یہ حملہ ہے۔ پیغام سادہ ہے: ڈالر کو چیلنج کرو، ہم بمباری کریں گے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیغام ڈی ڈالرائزیشن کو روک نہیں رہا، بلکہ تیز کر رہا ہے۔ گلوبل ساؤتھ اب جان چکا ہے کہ ڈالر معاشی طاقت سے نہیں، تشدد سے قائم ہے۔ اور جب کسی کرنسی کو بمباری کے سہارے زندہ رکھنا پڑے تو سمجھ لیجیے وہ کرنسی پہلے ہی مر چکی ہوتی ہے۔
وینزویلا اکیلا نہیں۔ عراق، افغانستان، لیبیا، شام، ویتنام، چلی، بولیویا، افریقا، فلسطین ہر جگہ ایک ہی کہانی ہے۔ جمہوریت کے نام پر تباہی، انسانی حقوق کے نام پر قتل، امن کے نام پر جنگ، اور قانون کے نام پر طاقت کا جبر۔ غزہ میں بچوں کا خون بہتا رہا، اقوام متحدہ کی قراردادیں کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ حیثیت نہ رکھ سکیں اور دنیا خاموش رہی۔ خاموشی بھی جرم ہے، اور رضامندی بھی۔ یہ عالمی نظام انصاف پر نہیں، مفادات پر کھڑا ہے۔ امن کی بات وہی طاقتیں کرتی ہیں جو سب سے زیادہ اسلحہ بیچتی ہیں۔ انسانی حقوق کا درس وہی دیتے ہیں جو ان کی خلاف ورزیوں میں سرفہرست ہیں۔ وینزویلا کے تیل پر نظریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قدرتی وسائل رکھنے والے کمزور ممالک ہمیشہ نشانے پر رہتے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ دنیا جھکے گی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کب تک دبتی رہے گی؟ اگر عالمی امن واقعی مقصود ہے تو جنگی جرائم کا احتساب ہونا چاہیے، معاشی پابندیوں کو اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کرنا بند ہونا چاہیے، اقوام متحدہ کو طاقتور ممالک کے اثر سے آزاد ہونا ہوگا، اور عالمی ضمیر کو جاگنا ہوگا۔ کیونکہ امن طاقت سے نہیں، انصاف سے آتا ہے۔ وینزویلا آغاز نہیں۔ یہ بوکھلاہٹ کا آخری مرحلہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے کے نام پر اور دنیا یہ ہے کہ ڈالر کو کے ساتھ ہیں کہ رہا ہے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔