پاکستان اور بنگلا دیشی فوج دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر متفق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-19
راولپنڈی(خبرایجنسیاں)بنگلا دیش کی فضائیہ کے سربراہ نے ائرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کی فضائی افواج کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بنگلا دیش کی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل حسن محمود خان ائر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد پہنچے جہاں پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل ظہیراحمد بابر سدھو نے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر بنگلا دیش کی فضائیہ کے سربراہ کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ملاقات کے دوران ائر چیف مارشل ظہیراحمد بابر سدھو نے بنگلا دیشی فضائیہ کے لیے جامع تربیتی تعاون کی یقین دہانی کرائی، فریقین کے درمیان سپرمشاق ٹرینر طیاروں کی تیز رفتار فراہمی اور طویل المدتی سپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے کے موقع پر بنگلا دیش فضائیہ کی پرانے فلیٹ کی منٹیننس، ائر ڈیفنس ریڈار سسٹمز اور جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ بنگلا دیشی وفد نے نیشنل آئی ایس آر، سائبر کمانڈ اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی پارک کا بھی دورہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک نے پاک بنگلا دیش دفاعی تعلقات کو طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اسلام آباد: پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابرسدھو سے بنگلادیش کے ہم منصب حسن محمود خان ملاقات کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل بنگلا دیش ا ئی ایس
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔