بنگلہ دیش کے ائیر چیف کی پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات میں جے ایف 17 طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل حسن محمود خان کی زیر قیادت اعلیٰ سطح کے وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بات کی گئی جبکہ بنگلہ دیشی ائیر چیف نے پاکستانی ائیر چیف سے بنگلہ دیش کے لڑاکا فضائی بیڑے کی دیکھ بھال اور مرمت میں معاونت کی درخواست کی۔
بنگلہ دیشی ائیر چیف نے یہ بھی درخواست کی کہ بنگلادیش کے ائیر ڈیفنس ریڈار سسٹم کو ایئر سرویلیئنس سسٹم سے منسلک کرنے میں تعاون کیا جائے ۔ پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے بنگلہ دیش ائیر فورس چیف کو ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیش ائیرفورس کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور مکمل تربیتی و طویل مدتی معاون نظام کی فراہمی کا بھی یقین دلایا۔
محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کر دی
ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے بنگلہ دیش کو سپر مشاق تربیتی طیاروں کی جلد فراہمی کا بھی یقین دلایا۔ ملاقات میں ایرو اسپیس شعبے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور مہمانوں کو الیکٹرانک وار فیئر اور بغیر پائلٹ فضائی نظام میں پاک فضائیہ کی صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ائیر چیف مارشل بنگلہ دیش
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔