ٹرمپ عالمی غنڈے کے روپ میں سامنے آرہاہے ‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر کے اغوا اور ان پر غیر قانونی مقدمے کے بعد دنیا میں ایک بار پھر نو آبادیاتی نظام کو عملی طور پر مسلط کیا جارہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی بڑی اقوام کو نام لے کر دھمکیاں دے رہا ہے اور ایک بین الاقوامی غنڈے کے روپ میں سامنے آرہا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی طاقتیں بین الاقوامی امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آرہی ہیں اور امریکی من مانی ایک بار پھر زور پکڑتی جارہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک طرف 80 ہزار انسانوں کا قاتل اور غزہ کو تہس نہس کرنے والا نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے اور دوسری طرف ٹرمپ اپنے مخالفین پر یلغار کررہا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بدمعاشی کا یہ عالمی نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔خود امریکی عوام میں ان ظالمانہ اقدامات پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے، دنیا بھر کی انسانیت دوست اور قانون پسند قوتوں کو اٹھ کھڑا ہونا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔