ٹرمپ عالمی غنڈے کے روپ میں سامنے آرہاہے ‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-23
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر کے اغوا اور ان پر غیر قانونی مقدمے کے بعد دنیا میں ایک بار پھر نو آبادیاتی نظام کو عملی طور پر مسلط کیا جارہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی بڑی اقوام کو نام لے کر دھمکیاں دے رہا ہے اور ایک بین الاقوامی غنڈے کے روپ میں سامنے آرہا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی طاقتیں بین الاقوامی امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آرہی ہیں اور امریکی من مانی ایک بار پھر زور پکڑتی جارہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک طرف 80 ہزار انسانوں کا قاتل اور غزہ کو تہس نہس کرنے والا نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے اور دوسری طرف ٹرمپ اپنے مخالفین پر یلغار کررہا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بدمعاشی کا یہ عالمی نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔خود امریکی عوام میں ان ظالمانہ اقدامات پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے، دنیا بھر کی انسانیت دوست اور قانون پسند قوتوں کو اٹھ کھڑا ہونا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔