7 شہروں میں ترقیاتی منصوبے اپریل تک مکمل کئے جائیں: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت صوبے میں جاری ترقیاتی پراجیکٹس پر تین گھنٹے طویل اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام، مثالی گاؤں، پی ایچ اے، صاف پانی اور دیہی روڈ منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مثالی گاؤں پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے 224 دیہات میں کام کے آغاز پر بریفنگ دی گئی۔پہلے فیز میں 469 دیہات میں واٹر سپلائی، ڈرینج، چلڈرن پارک، فٹ پاتھ اور سٹریٹ لائٹس لگے گی۔ اس موقع پرشہریوں کی سہولت کے لیے سیوریج لائن سڑکوں کی بجائے گرین بیلٹ میں بچھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مین ہول بھی سڑک کے کناروں پر بنائے جائیں گے۔اجلاس میں ڈرینج اور سیوریج سسٹم کی پائیداری یقینی بنانے کیلئے 100 سال تک کار آمد HOPE سیوریج پائپ نصب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے لائیو ڈیش بورڈ قائم کرنے کی ہدایت کی،لائیو ڈیش بورڈ سے خود نگرانی کریں گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا پہلا فیز مکمل کر لیا گیا جبکہ دوسرا فیز 30 اپریل تک مکمل ہوگا۔ مریم نواز نے7 شہروں میں پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی اپریل میں تکمیل کرنے کا حکم دے دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا پنجاب کے مزید 11 اضلاع میں نئے پی ایچ اے قائم کر دیئے گئے، ان کی مجموعی تعداد 21 ہوگی ہے۔ مریم نواز نے پورے صوبے میں پی ایچ اے قائم کرنے کے لئے قابل عمل پلان طلب کر لیا۔ موجودہ پی ایچ اے کی افرادی قوت اور اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ پی ایچ اے کی مالی خود مختاری کے لئے ری سورس جنریشن کا پلان بنانے کی ہدایت کی اور ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ پراجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ ’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ کی الاٹیز کو الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘کے تحت 155ارب روپے کے 121477 قرضے جاری ہوچکے جبکہ 65ہزار گھر بن چکے ہیں۔ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ کے تحت روزانہ 700 مکان بن رہے ہیں۔ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پراجیکٹ کے تحت قسطوں کی ادائیگی کی مد میں 5.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے بائیو گیس پلانٹس میں بتایا گیا مریم نواز نے کی ہدایت کی پراجیکٹ کی اجلاس میں پی ایچ اے اپنی چھت اپنا گھر کیا گیا کرنے کی کرنے کا کا حکم کے تحت
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔