کراچی؛ یونیورسٹی روڈ پر نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے یونیورسٹی روڈ پر نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو نازیبا حرکات کرنے کے مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ یونیورسٹی روڈ پر نازیبا حرکات کرنے والے ملزم محی الدین کو عدالت میں پیش کیا۔
مزید پڑھیںکراچی؛ یونیورسٹی روڈ پر شہری کی نازیبا حرکت کی ویڈیو وائرل، ملزم گرفتار
عدالت نے ملزم محی الدین کی درخواست ضمانت منظور کرلی، عدالت نے ملزم کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے خلاف لگائی گئی، دفعات قابل ضمانت ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم محی الدین کی نازیبا حرکات کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ملزم کے خلاف مبینہ ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نازیبا حرکات کرنے یونیورسٹی روڈ پر
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔