چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کادورہ جیکب آباد بار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-2-3
جیکب آ باد(نمائندہ جسارت) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا جیکب آباد کا دورہ بار سے خطاب ،سولر پلانٹ اور ای لائبریر ی کا افتتاح کیاشجرکاری بھی کی۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر حسین راجپوت نے گزشتہ روز جیکب آباد کا دورہ کیا انکے ہمراہ جسٹس شمس الدین عباسی ،آصف مجید قریشی ،سیکریٹری سہیل احمد مشوری ،ایڈیشنل رجسٹرار رجب علی شر بھی ہمراہ تھے چیف جسٹس نے سول کورٹ کمپلیکس کا دورہ کیااس موقع پر سولر پلانٹ اور ای لائبریری کا افتتاح کیا اور شجرکاری بھی کی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے بار سے بھی خطاب کیاانکا کہنا تھا کہ قابل وکیل بننے کیلیے مسلسل محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے انہوں نے بار کے نوجوان وکلا کومحنت اور لگن سے کام کرنے کی تلقین کی انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر عدالتی و قانونی نظام ڈیجیٹل نظام پر منتقل ہو رہا ہے اس موقع پر سیشن جج جیکب آباد سید شرف الدین شاہ ،بار کے صدر مظفر رند ،جنرل سیکرٹری مصری جکھرانی ،سید غلام حسین شاہ اور دیگر موجود تھے،جلدتعلقہ بار ٹھل گڑھی خیرو کو سولر پر منتقل کیا جائے گا اور ای لائبریری بھی شروع کی جائے گی،بینکنگ گورٹ،نارکو ٹکس ،اینٹی کرپشن کورٹ کے جیکب آباد میں قیام کیلیے کوششیں کی جائے گی بار کی توسیع ،چیمبر کے لئے اقدامات کئے جائیں گے وکلاء کالونی کے لئے ڈی سی کو پلاٹ کی منتقلی کی ہدایت کررہا ہوں، ایمانداری سے وکلاء چلیں گے ترقی انکو ضرور ملے گی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جیکب ا باد
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔