ڈاکٹر طاہرالقادری کا مولانا فضل رحیم اشرفی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی رحلت سے پاکستان ایک عظیم مدبر، مخلص اور صاحبِ علم دینی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی علمی، دینی اور تعلیمی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی وفات سے پیدا ہونیوالا خلاء مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔ ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے سرپرست اعلیٰ و سابق مہتمم ممتاز عالمِ دین مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم کی ساری زندگی تعلیم و تعلم اور خدمت دین میں بسر ہوئی۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی رحلت سے پاکستان ایک عظیم مدبر، مخلص اور صاحبِ علم دینی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی علمی، دینی اور تعلیمی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی وفات سے پیدا ہونیوالا خلاء مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔ ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے دعا کی اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ڈاکٹر طاہر القادری نے سوگوار خاندان اور ان کے تلامذہ اور ادارہ کے جملہ ذمہ داران سے دلی تعزیت کا اظہار اور صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔