سوپور قتل عام کے متاثرہ خاندان 33 برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اس اندوہناک قتل عام کے عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ غاصب بھارتی فوجیوں نے ایک بس ڈرائیور کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور مسافروں پر گولیاں برسائیں جس سے 20 افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سوپور قتل عام کے متاثرہ خاندانوں کو 33 برس کا طویل عرصہ گز جانے کے باوجود تاحال انصاف نہیں مل سکا ہے۔ بھارتی فوجیوں نے 6 جنوری 1993ء کو سوپور قصبے میں اندھا دھند گولیاں برسار کر 60 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے اس روز 60 کشمیریوں کو شہید کرنے کے علاوہ رہائشی مکانات اور دکانوں سمیت 400 سے زائد عمارتوں کو بھی نذرآتش کر دیا تھا۔ تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں جبکہ ان کے پیاروں کے قاتل بھارتی فوجی آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس اندوہناک قتل عام کے عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ غاصب بھارتی فوجیوں نے ایک بس ڈرائیور کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور مسافروں پر گولیاں برسائیں جس سے 20 افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ مسافروں کو مارنے کے بعد، فوجیوں نے قریبی عمارتوں پر گن پاؤڈر، پیٹرول اور مٹی کا تیل چھڑک کر انہیں بھی نذر آتش کر دیا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ شہید ہونے والے شہریوں میں سے 48 گولی لگنے سے جاں بحق اور باقی کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوپور کے پانچ علاقوں آرم پورہ، مسلم پیر، کرلتانگ، شالاپورہ، شاہ آباد اور بوبیمیر صاحب میں 400 دکانوں اور 75 رہائشی مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا۔ جلی ہوئی عمارتوں میں خواتین کے ڈگری کالج جیسی تاریخی عمارتیں بھی تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ جب ہم نے بی ایس ایف اہلکاروں کو شہری کو گولیوں سے نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو انہیں کچھ سمجھ نہ آیا۔ اس بہیمانہ قتل عام کے چند دن بعد، انہیں معلوم ہوا کہ ایک بی ایس ایف اہلکار کی رائفل ایک نامعلوم شخص نے چھین لی تھی اور اس واقعے کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ قتل عام اور آتش زنی کے عینی شاہد غلام رسول گنائی نے بتایا کہ فوجیوں نے ایک بس (JKYـ1901) کے ڈرائیور کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور مسافروں پر فائرنگ کی جس سے بیس مسافر موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
بعد ازاں فوجیوں نے بارود چھڑک کر دکانوں اور عمارتوں کو آگ لگا دی جس سے400 سے زائد دکانیں اور عمارتیں خاکستر ہو گئیں۔ شالہ خاندان کے ایک رکن نے کہاکہ ہمارے خاندان کے پندرہ سالہ محمد اشرف شالہ، غلام رسول شالہ، سجاد احمد شالہ اور بشیر احمد شالہ سمیت چار افراد کو شہید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ قتل عام سے ایک دن قبل مرکزی چوک کے قریب ہمارا پھلوں سے لدا ہوا یک ٹرک ڈرین میں پھنس گیا تھا اور بی ایس ایف کی طرف سے فائرنگ شروع ہونے کے بعد خاندان کے چار افراد نے ایک دکان میں چھپ کر جان بچائی تھی۔ فورسز اہلکاروں نے دکان میں گھس کر چاروں افراد کو شہید کر دیا۔ 45سالہ طارق احمد کنجوال نے جواس واقعے کا عینی شاہد ہے کہا کہ ایک دکان میں ایک شخص کا آگ کے شعلوں میں لپٹا جسم ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔
طارق کو یہ بھی یاد ہے کہ کس طرح شاہین سٹوڈیو کے مالک شاہین اور اس کے اسسٹنٹ کو دکان کے اندر زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ٹائم میگزین میں سوپور قتل عام پر ”Blood Tide Rising” کے زیر عنوان ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی۔ سرینگر سے شائع ہونے والے روزنامے گریٹر کشمیر نے جنوری 2007ء کی ایک رپورٹ میں 57نہتے شہریوں کے قتل عام کا حوالہ دیتے ہوئے اسے 1989ء کے بعد سے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں بدترین مظالم میں سے ایک قرار دیا۔ گریٹر کشمیر نے جنوری 2007ء کی ایک رپورٹ میں 14سال قبل 1993ء میں سوپور قصبے میں 57 نہتے شہریوں کے قتل عام کا ذکر کیا تھا۔ گریٹر کشمیر نے ٹائم میگزین کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک فوجی کی ہلاکت کے بدلے میں، بھارتی پیراملٹری اہلکاروں نے شہریوں کا قتل عام کیا اور سوپور مارکیٹ کی عمارتوں کو نذر آتش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قتل عام کے فوجیوں نے عینی شاہد کو شہید شہید ہو گیا تھا کے بعد کر دیا نے ایک
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔