محکمہ موسمیات کی ملک میں شدید ترین سرد موسم کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی:
محکمہ موسمیات نے پاکستان میں شدید ترین سرد موسم کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دسمبر سے فروری تک ملک کے موسم کے حوالے سے دستاویزات شدید سردی کی پیش گوئی کی تصدیق نہیں کر رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کےمطابق مشاہدہ شدہ موسمیاتی ڈیٹا پاکستان میں شدید ترین سرد موسم کے دعووں کی تردید کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سے قبل موسم سرما کےآغاز سے قبل سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر شدید اور غیرمعمولی سردی کے حوالے دعوے کیے گئے تھے، جوکہ گمراہ کن ثابت ہوئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سرمائی موسمی پیش گوئی(دسمبر تا فروری)کسی بھی علاقائی و عالمی آب و ہوا کے اشارے ایسے کسی بھی سردموسم کی تصدیق نہیں کرتے، بالخصوص دسمبر2025کے دوران ریکارڈ ہونے والے حالات محکمہ موسمیات کےموسمی آوٹ لک سےمکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے مذکورہ موسمی آؤٹ لک عالمی ادارہ موسمیات کے تعاون سےعالمی آب ہوا کی پیش گوئی کے نظام کی بنیاد پر مرتب کی، جس کے آؤٹ لک میں ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے قدرے زیادہ جبکہ بارش معمول کے قریب یا معمول سے کم رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اب تک کے مشاہدات کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر بارش معمول سے کم رہی جبکہ مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش ریکارڈ کی گئی تاہم گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا۔
پی ایم ڈی کا کہنا ہےکہ جاری موسم سرما کی صورت حال اس کے پری سیزن موسمی نکتہ نظر سے مکمل مطابقت رکھتی ہے اور شدید یا غیرمعمولی سرد موسم کے دعوؤں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں بنتی۔
محکمہ موسمیات نے عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم اور آب وہوا سے متعلق درست، بروقت اور سائنسی معلومات کےلیے صرف پی ایم ڈی کی آفیشل پیش گوئیوں اور رپورٹس پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات سےگریز کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل محکمہ موسمیات نے پیش گوئی معمول سے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔