سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی ایئرلائن میں نجی شعبے کے ذریعے سرمایہ کاری اور انتظامی بہتری کی کوششوں کو سراہا ہے، تاہم کوئٹہ کے لیے ہوائی کرایوں میں اضافے اور چترال کی پروازوں کی معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری، وزیراعظم نے اہم ہدایات جاری کردیں

انگریزی روزنامے میں شائع عاصم یاسین کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس منگل کو سینیٹر محمد طلحہ محمود کی صدارت میں ہوا، جس میں پی آئی اے کی نجکاری، کوئٹہ کے لیے بڑھتے ہوائی کرایے، چترال روٹ پر پروازوں کی بندش، پاکستان افغانستان سرحدی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر غور کیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے وزیر دفاع پر بھی زور دیا کہ وہ اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں۔

اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے پی آئی اے کی نجکاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا، نجکاری سے قومی خزانے پر پڑنے والا بھاری بوجھ کم ہوگا اور امید ہے کہ پیشہ ورانہ انتظام کے تحت پی آئی اے اپنی سابقہ ساکھ بحال کر سکے گی۔

کمیٹی نے چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ حکام نے آگاہ کیا کہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے فعال ہیں، جس کے باعث پروازیں معطل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کی 2 ایئر ہوسٹس میں لڑائی، بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، انتظامیہ کا سخت ایکشن

سیکریٹری دفاع نے یقین دہانی کرائی کہ نجکاری اور فنڈز کی فراہمی کے بعد گراؤنڈ طیاروں کی مرمت کو ترجیح دی جا رہی ہے اور چترال روٹ کی بحالی کے لیے کنسورشیم کو سفارشات دی جا رہی ہیں۔

اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ چترال اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور گرین ٹورازم منصوبے کے تحت وزارت دفاع کے تعاون سے فضائی سفر کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے، جبکہ چارٹرڈ ہیلی کاپٹر سروسز اور چترال کی پروازوں کو چارٹرڈ آپریشنز سے منسلک کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے چترال کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد کم از کم 2 کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ بعض روٹس اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں صرف منافع کے پیمانے پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔

سینیٹ کمیٹی نے کوئٹہ کے لیے ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافے پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا اور وزارت دفاع پر زور دیا کہ کرایوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فئیر کیپنگ کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے۔

حکام نے بتایا کہ کرایوں کا تعین عمومی طور پر طلب اور رسد کی بنیاد پر ہوتا ہے، تاہم کمیٹی کی سفارش پر کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے نجکاری: ماضی میں پرائیوٹائز ہونے والے ادارے بہتر ہوئے یا بدتر؟

اجلاس میں ہوائی اڈوں پر موجود پروٹوکول نظام میں خامیوں، پاسز کی مدت، اور بیت الخلا کی خراب صورتحال پر بھی توجہ دلائی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ۳ بڑے ہوائی اڈوں پر سروسز کی بہتری کے لیے آؤٹ سورسنگ کی کابینہ سے منظوری دی جا چکی ہے۔

آخر میں کمیٹی کو پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے پر ان کیمرہ بریفنگ دی گئی، جس پر کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا اور معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی آئی اے چترال سینیٹ کمیٹ سینیٹر طلحہ محمود کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے چترال سینیٹ کمیٹ سینیٹر طلحہ محمود کوئٹہ کا اظہار کیا پی آئی اے کی پروازوں کی کی نجکاری اور چترال پی ا ئی اے کمیٹی نے کوئٹہ کے ئی اے کی پر بھی کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان