سینیٹ دفاعی کمیٹی کا پی آئی اے کی نجکاری کا خیرمقدم، کوئٹہ کے ہوائی کرایوں اضافے اور چترال پروازوں کی معطی پر تشویش
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی ایئرلائن میں نجی شعبے کے ذریعے سرمایہ کاری اور انتظامی بہتری کی کوششوں کو سراہا ہے، تاہم کوئٹہ کے لیے ہوائی کرایوں میں اضافے اور چترال کی پروازوں کی معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری، وزیراعظم نے اہم ہدایات جاری کردیں
انگریزی روزنامے میں شائع عاصم یاسین کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس منگل کو سینیٹر محمد طلحہ محمود کی صدارت میں ہوا، جس میں پی آئی اے کی نجکاری، کوئٹہ کے لیے بڑھتے ہوائی کرایے، چترال روٹ پر پروازوں کی بندش، پاکستان افغانستان سرحدی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر غور کیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے وزیر دفاع پر بھی زور دیا کہ وہ اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں۔
اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے پی آئی اے کی نجکاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا، نجکاری سے قومی خزانے پر پڑنے والا بھاری بوجھ کم ہوگا اور امید ہے کہ پیشہ ورانہ انتظام کے تحت پی آئی اے اپنی سابقہ ساکھ بحال کر سکے گی۔
کمیٹی نے چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ حکام نے آگاہ کیا کہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے فعال ہیں، جس کے باعث پروازیں معطل کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کی 2 ایئر ہوسٹس میں لڑائی، بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، انتظامیہ کا سخت ایکشن
سیکریٹری دفاع نے یقین دہانی کرائی کہ نجکاری اور فنڈز کی فراہمی کے بعد گراؤنڈ طیاروں کی مرمت کو ترجیح دی جا رہی ہے اور چترال روٹ کی بحالی کے لیے کنسورشیم کو سفارشات دی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ چترال اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور گرین ٹورازم منصوبے کے تحت وزارت دفاع کے تعاون سے فضائی سفر کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے، جبکہ چارٹرڈ ہیلی کاپٹر سروسز اور چترال کی پروازوں کو چارٹرڈ آپریشنز سے منسلک کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے چترال کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد کم از کم 2 کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ بعض روٹس اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں صرف منافع کے پیمانے پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔
سینیٹ کمیٹی نے کوئٹہ کے لیے ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافے پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا اور وزارت دفاع پر زور دیا کہ کرایوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فئیر کیپنگ کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے۔
حکام نے بتایا کہ کرایوں کا تعین عمومی طور پر طلب اور رسد کی بنیاد پر ہوتا ہے، تاہم کمیٹی کی سفارش پر کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے نجکاری: ماضی میں پرائیوٹائز ہونے والے ادارے بہتر ہوئے یا بدتر؟
اجلاس میں ہوائی اڈوں پر موجود پروٹوکول نظام میں خامیوں، پاسز کی مدت، اور بیت الخلا کی خراب صورتحال پر بھی توجہ دلائی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ۳ بڑے ہوائی اڈوں پر سروسز کی بہتری کے لیے آؤٹ سورسنگ کی کابینہ سے منظوری دی جا چکی ہے۔
آخر میں کمیٹی کو پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے پر ان کیمرہ بریفنگ دی گئی، جس پر کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا اور معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی آئی اے چترال سینیٹ کمیٹ سینیٹر طلحہ محمود کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے چترال سینیٹ کمیٹ سینیٹر طلحہ محمود کوئٹہ کا اظہار کیا پی آئی اے کی پروازوں کی کی نجکاری اور چترال پی ا ئی اے کمیٹی نے کوئٹہ کے ئی اے کی پر بھی کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔