لاہور (ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پنجاب کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بڑی تعداد میں میدانِ عمل میں نکلتی ہیں تو پنجاب کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کی طاقت ہیں اور ان کی خدمات سے صوبے کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور، ساہیوال، اوکاڑہ، جھنگ، مظفرگڑھ، قصور، لیہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان، بھکر، وہاڑی، خانیوال، بہاول نگر، راولپنڈی، میانوالی سمیت پورے پنجاب سے ہزاروں کی تعداد میں بیٹیاں اور بہنیں آج یہاں موجود ہیں۔ جب یہ خواتین عوام کی خدمت کے لیے گھروں سے نکلیں گی تو وہ دن دور نہیں جب یہ سب مل کر پنجاب کی تقدیر بدل دیں گی۔

مریم نواز شریف نے پنجاب کی بیٹیوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو کیا وہ پورے صوبے کا منظرنامہ بدل سکتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ آج مجھے جو پیار اور محبت ملی، میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں ایک ایک خاتون سے ملوں، انہیں گلے لگاؤں اور ان کا ماتھا چوم کر کہوں کہ پنجاب کی بیٹیاں واقعی تاریخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز دیا اور وہ فخر سے کہہ سکتی ہیں کہ پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی کسی سے کم نہیں۔ وہ جو چاہیں حاصل کر سکتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سیکرٹری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر، نادیہ اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ 55 ہزار کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی تربیت ایک شاندار کارنامہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ خواتین صرف ہیلتھ ورکرز نہیں بلکہ حکومت کی آنکھیں، کان اور ہاتھ ہیں اور اس خواب کی تعبیر ہیں جو انہوں نے دو سال پہلے دیکھا تھا۔ اب حکومت عوام کے ہسپتالوں میں آنے کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود چل کر عوام کے دروازے تک پہنچے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو انٹی نیٹل اور پوسٹ نیٹل چیک اپ، امیونائزیشن، بلڈ پریشر ٹیسٹ، ریپڈ ڈائیگنوسٹک ٹیسٹس، انجیکشنز، انفیوژنز اور الٹراساؤنڈ تک کی تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یونیفارم، ٹول کٹس، بیگز اور ڈیجیٹل ٹیبلٹس انہوں نے خود منظور کیے تاکہ ان خواتین کو شناخت، وقار اور تحفظ دیا جا سکے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ اب پنجاب کا کوئی شہر، کوئی گلی اور کوئی محلہ ایسا نہیں رہے گا جہاں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز جا کر لوگوں کے دروازے نہ کھٹکھٹائیں۔ اگر کسی کو دوا یا چیک اپ کی ضرورت ہو گی تو یہ خواتین گھر بیٹھے سہولت فراہم کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک موبائل اور فیلڈ ہسپتالوں کے ذریعے تین کروڑ سے زائد افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب حکومت کے گورننس ماڈل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لوگوں کے پاس خود جاتی ہے، جیسے “ستھرا پنجاب” پروگرام جو دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام بن چکا ہے اور جس میں 25 ہزار افراد کو روزگار ملا ہے۔

انہوں نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ابتدائی تنخواہ 50 ہزار روپے ہے اور اگر وہ محنت، لگن اور عوامی خدمت سے اپنے فرائض ادا کریں گی تو وہ خود ان کی تنخواہوں میں اضافہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر کا ڈیجیٹل ہیلتھ پروفائل بنایا جائے گا تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو گھروں تک مفت انسولین، کارڈیولوجی ادویات، ہیپاٹائٹس کا علاج اور کینسر کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں جدید کارڈیالوجی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں جہلم، سرگودھا، لاہور، مری، جھنگ اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔

آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے جسے پنجاب کی ہر ماں، بہن اور بیٹی نے مل کر پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی بیٹیوں پر فخر ہے اور محبت کے اظہار میں کہا:
“آپ سب کہتی ہیں آئی لو یو، تو مریم نواز بھی آپ سے کہتی ہے: آئی لو یو مور۔”

تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے شرکاء سے نعرے لگوائے:
“پنجاب کی ہر بیٹی زندہ باد”
اور
“پاکستان زندہ باد”

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کمیونٹی ہیلتھ ورکرز مریم نواز شریف نے انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کہا ہوئے کہا کہ یہ خواتین پنجاب کی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب