صحت کا نظام عوام کی دہلیز تک پہنچانا حکومت کا مشن ہے،مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پنجاب کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بڑی تعداد میں میدانِ عمل میں نکلتی ہیں تو پنجاب کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کی طاقت ہیں اور ان کی خدمات سے صوبے کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور، ساہیوال، اوکاڑہ، جھنگ، مظفرگڑھ، قصور، لیہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان، بھکر، وہاڑی، خانیوال، بہاول نگر، راولپنڈی، میانوالی سمیت پورے پنجاب سے ہزاروں کی تعداد میں بیٹیاں اور بہنیں آج یہاں موجود ہیں۔ جب یہ خواتین عوام کی خدمت کے لیے گھروں سے نکلیں گی تو وہ دن دور نہیں جب یہ سب مل کر پنجاب کی تقدیر بدل دیں گی۔
مریم نواز شریف نے پنجاب کی بیٹیوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو کیا وہ پورے صوبے کا منظرنامہ بدل سکتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ آج مجھے جو پیار اور محبت ملی، میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں ایک ایک خاتون سے ملوں، انہیں گلے لگاؤں اور ان کا ماتھا چوم کر کہوں کہ پنجاب کی بیٹیاں واقعی تاریخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز دیا اور وہ فخر سے کہہ سکتی ہیں کہ پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی کسی سے کم نہیں۔ وہ جو چاہیں حاصل کر سکتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سیکرٹری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر، نادیہ اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ 55 ہزار کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی تربیت ایک شاندار کارنامہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ خواتین صرف ہیلتھ ورکرز نہیں بلکہ حکومت کی آنکھیں، کان اور ہاتھ ہیں اور اس خواب کی تعبیر ہیں جو انہوں نے دو سال پہلے دیکھا تھا۔ اب حکومت عوام کے ہسپتالوں میں آنے کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود چل کر عوام کے دروازے تک پہنچے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو انٹی نیٹل اور پوسٹ نیٹل چیک اپ، امیونائزیشن، بلڈ پریشر ٹیسٹ، ریپڈ ڈائیگنوسٹک ٹیسٹس، انجیکشنز، انفیوژنز اور الٹراساؤنڈ تک کی تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یونیفارم، ٹول کٹس، بیگز اور ڈیجیٹل ٹیبلٹس انہوں نے خود منظور کیے تاکہ ان خواتین کو شناخت، وقار اور تحفظ دیا جا سکے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ اب پنجاب کا کوئی شہر، کوئی گلی اور کوئی محلہ ایسا نہیں رہے گا جہاں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز جا کر لوگوں کے دروازے نہ کھٹکھٹائیں۔ اگر کسی کو دوا یا چیک اپ کی ضرورت ہو گی تو یہ خواتین گھر بیٹھے سہولت فراہم کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک موبائل اور فیلڈ ہسپتالوں کے ذریعے تین کروڑ سے زائد افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب حکومت کے گورننس ماڈل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لوگوں کے پاس خود جاتی ہے، جیسے “ستھرا پنجاب” پروگرام جو دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام بن چکا ہے اور جس میں 25 ہزار افراد کو روزگار ملا ہے۔
انہوں نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ابتدائی تنخواہ 50 ہزار روپے ہے اور اگر وہ محنت، لگن اور عوامی خدمت سے اپنے فرائض ادا کریں گی تو وہ خود ان کی تنخواہوں میں اضافہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر کا ڈیجیٹل ہیلتھ پروفائل بنایا جائے گا تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو گھروں تک مفت انسولین، کارڈیولوجی ادویات، ہیپاٹائٹس کا علاج اور کینسر کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں جدید کارڈیالوجی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں جہلم، سرگودھا، لاہور، مری، جھنگ اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔
آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے جسے پنجاب کی ہر ماں، بہن اور بیٹی نے مل کر پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی بیٹیوں پر فخر ہے اور محبت کے اظہار میں کہا:
“آپ سب کہتی ہیں آئی لو یو، تو مریم نواز بھی آپ سے کہتی ہے: آئی لو یو مور۔”
تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے شرکاء سے نعرے لگوائے:
“پنجاب کی ہر بیٹی زندہ باد”
اور
“پاکستان زندہ باد”
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کمیونٹی ہیلتھ ورکرز مریم نواز شریف نے انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کہا ہوئے کہا کہ یہ خواتین پنجاب کی
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔