پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کیخلاف گھیراتنگ کرنےکافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ کے مطابق نادہندگان کی جائیداد پر قبضہ کرنے اور سربمہری کی کارروائیاں جلد شروع کی جائیں گی۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں صوبے بھر میں 50 فیصد پراپرٹی مالکان نے ٹیکس ادا کر دیا ہے، جبکہ باقی 50 فیصد نادہندگان کو حتمی نوٹسز بھیجنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ملک میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی
لاہور سے پراپرٹی ٹیکس کے 30 ارب کے ہدف میں سے 8 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ پورے صوبے سے 18 ارب روپے جمع ہوئے ہیں۔
مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پہلی بار 4 ماہ کے لیے 5 فیصد رعایت دی گئی تھی لیکن رعایت کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ڈی جی ایکسائز کا مذید کہنا تھا کہ سربمہری، جائیداد قرقی کے علاوہ ہر ماہ 10 فیصد جرمانہ بھی بڑھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔