پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کیخلاف گھیراتنگ کرنےکافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ کے مطابق نادہندگان کی جائیداد پر قبضہ کرنے اور سربمہری کی کارروائیاں جلد شروع کی جائیں گی۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں صوبے بھر میں 50 فیصد پراپرٹی مالکان نے ٹیکس ادا کر دیا ہے، جبکہ باقی 50 فیصد نادہندگان کو حتمی نوٹسز بھیجنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ملک میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی
لاہور سے پراپرٹی ٹیکس کے 30 ارب کے ہدف میں سے 8 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ پورے صوبے سے 18 ارب روپے جمع ہوئے ہیں۔
مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پہلی بار 4 ماہ کے لیے 5 فیصد رعایت دی گئی تھی لیکن رعایت کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ڈی جی ایکسائز کا مذید کہنا تھا کہ سربمہری، جائیداد قرقی کے علاوہ ہر ماہ 10 فیصد جرمانہ بھی بڑھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔