میاں داؤد لاہور کے ایک مشہور وکیل اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف ان کی درخواستیں فیصلہ کن ثابت ہوئیں جس کی وجہ سے وہ ازراہ تفنن جج کھانے والے وکیل کے طور پر مشہور ہو چکے ہیں۔

وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں میاں داؤد نے کہا کہ حکومت اور ریاست کی اصل ذمے داری اصل مقدمات قائم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس جہانگیری کی ڈگریاں جعلی، یہ بات ہر جگہ ثابت کروں گا، ایڈووکیٹ میاں داؤد

میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ریاست فوج اور عدلیہ کو گالی دینے والے شخص کا تعلق اگر تو اشرافیہ سے ہے تو اسے کچھ نہیں کہا جاتا لیکن اگر کسی غریب کے بچے نے شالیمار باغ میں ’نک دا کوکا‘ گا لیا تو آپ نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی ۔

انہوں نے کہا کہ واضح مثال شاندانہ گلزار کی ہے جنہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف غلط خبر شیئر کی کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی ہے، آج اُس ایف آر کو درج ہوئے 3 سے 4 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کسی کی جرأت نہیں کہ اس پر کارروائی کرے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست کے اندر 2 قانون ہیں، غریب کا بچہ غصے اور جذبات میں کوئی بات کہہ دیتا ہے آپ فوراً اٹھا لیتے ہیں لیکن امیر کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں اصلی مقدمات کو چھوڑ کر جعلی مقدمات قائم کر کے لوگوں کو ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ایک خاتون وکیل کے خلاف بوگس مقدمہ شروع کر کے حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس میں سزا دی جائے لیکن ان کے خلاف جو جینوئن مقدمات ہیں ان میں کارروائی نہیں کر رہے یہ چیز حکومت کی نیت بارے شک میں مبتلا کرتی ہے کہ آپ لوگوں کو اِس طرح کے مقدمات میں پھنسا کر پہلے انہیں ہیرو بناتے ہیں پھر ان کو یوٹیلائز کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: معزول جسٹس طارق محمود جہانگیری کو وزارت قانون و انصاف نے باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا

میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے نام پر آپ بیرون ملک لوگوں کو سزا دے رہے ہیں جو ایک بزدلانہ حرکت ہے لیکن یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوئے وہ لوگ جو یہاں جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، آپ ایسا کریں گے تو عام عوام بھی آپ کا ساتھ چھوڑ جائیں گے کہ آپ لوگ تو منافقت کرتے ہیں۔

اس وقت عدلیہ پر دباؤ اور جج صاحبان خوفزدہ ہیں

میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت کے حامی وکلا نے اس وقت جج صاحبان کو خوفزدہ کر دیا ہے اور وہ واقعی میں اس وقت ڈر رہے ہیں، عدلیہ سے متعلق 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کمزور ہوئی ہے لیکن اس کی ذمے دار خود عدلیہ بھی ہے۔

محض جنرل فیض کو سزا نہیں دی جا سکتی

میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان کا سوچ بچار کرنے والا طبقہ اکیلے جنرل فیض کی سزا کو قبول نہیں کرے گا کیوں کہ محض وہ ہی مجرم نہیں بلکہ ’پروجیکٹ عمران خان‘ پر کام کرنے والوں میں مرکزی کردار اس وقت کی عدلیہ نے ادا کیا، یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ جنرل فیض اس وقت کے جج صاحبان کو مینیج کرتے رہے، مکمل انصاف تب ہو گا جب جنرل باجوہ، جنرل فیض کے ساتھ جو جج صاحبان ملوث تھے ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ورنہ جنرل فیض اپنے خلاف مقدمات میں ہمیشہ وکٹامائزیشن کی گراؤنڈ لیتے رہیں گے کہ مجھے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

پی ٹی آئی کارکنان کا فوجی ٹرائل ہو سکتا ہے تو ان سے جڑے ججز کیوں نہیں؟

میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جن جج صاحبان کا نام لیا جاتا ہے ان کے بارے میں اگر ثبوت مہیا ہوتے ہیں تو ان کا ٹرائل وہاں ہو سکتا ہے۔

پلانٹڈ مقدمے کا تاثر کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

اس پر بات کرتے ہوئے میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ مقدمے کا ریکارڈ بتا دیتا ہے کہ وہ پلانٹڈ ہے یا نہیں ہے، آیا اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے یا نہیں ہے اس کا فیصلہ ریکارڈ سے کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیبلشمنٹ جج جسٹس طارق محمود جہانگیری جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی جعلی مقدمات میاں داؤد ایڈووکیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ جج جسٹس طارق محمود جہانگیری جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی جعلی مقدمات میاں داؤد ایڈووکیٹ انہوں نے جنرل فیض کے خلاف سکتا ہے

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل