Jasarat News:
2026-06-03@06:01:25 GMT

پاکستان میں سگ گزیدگی کی ویکسین کی کمی!

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260107-03-6

 

ضیاء الحق سرحدی

گزشتہ دنوں پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں سگ گزیدگی کے کیسز اور آوراہ کتوں کی تعداد کے پیش نظر خصوصی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ سارے شہروں میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریبیز سے ہر سال تقریباً 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔ کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری اسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجنسی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، آپ روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ جو مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تُکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے! اگر اسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور اسپتال چلے جائیے۔ اب چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسین مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین (سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔

ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔ اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG ضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی اسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہیے، فوری طور پر اسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG (یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔ ریبیزکی بیماری کی علامت دو طرح سے ہوتی ہیں جن میں سے ایک کو Furious اور دوسرے کو Dumb کہتے ہیں۔ Furious حالت میں کتے کے کاٹنے کے بعد دماغ میں ہونے والی سوزش کے باعث ڈپریشن اور بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ علامت کتے کے کاٹنے کے دو سے چار دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے جس میں پہلے مرحلے میں متاثرہ شخص کو کتے کے کاٹنے سے موجود زخم میں شدید چبھن، خارش اور درد محسوس ہونے لگتا ہے اور مریض کو بے حد بے چینی، سردرد، تھکاوٹ اور بخار بھی ہو جاتا ہے اور جب یہ Lyssa Virus مریض کے دماغ تک پہنچ تک جاتا ہے تو اس پر شدید ہیجانی دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ دیوانگی اور اعصابی تشنج کے ساتھ ساتھ متاثرہ شخص کو پانی سے خوف اور ہوا سے خوف کی شکایت بھی ہو جاتی ہے، وہ بند کمرے میں کونے میں چھپ کر بیٹھے رہنے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ بعض حالتوں میں روشنی سے بھی خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ مریض کو سانس لینے میں رکاوٹ اور مشکل پیش آتی ہے اور اس کی آنکھوںکی پتلی ٹھیر سی جاتی ہے۔ یہ سب علامتیں ظاہر ہو جانے کے بعد مریض کے بچنے کے امکانات بے حد کم رہ جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم یعنی Dumb حالت میں متاثرہ شخص کے اعضاء کے پٹھوں کی کمزوری اور فالج جیسے علامات یا کیفیات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور مریض بالکل بے سدھ سا ہو جاتا ہے۔ غشی اور نیم بے ہوشی کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے اور پھر کچھ ہی عرصے میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی (اینٹی ریبیز) ویکسین کی ملک بھر میںکمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ قومی اداری صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ویکسین کی ڈیمانڈ دس لاکھ ہے۔ این آئی ایچ میں سالانہ دو لاکھ ویکسین تیار کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 5 ہزار اموات کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ہم اینٹی ریبیز ویکسین بھارت سے منگواتے تھے اب ایک تو بھارت کے ساتھ تعلقات کچھ ٹھیک نہیں ہیں اور دوسرے اب بھارت میں بھی سگ گزیدگی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے لہٰذا انہوں نے اینٹی ریبیز ویکسین کی فروخت روک دی ہے کیونکہ جتنی ویکسین وہاں تیار ہوتی ہے اس کی بھارت میں ہی کھپت ہو جاتی ہے۔ اگر ہماری ضرورت پوری نہیں ہوتی تو یہ ویکسین سنگاپور، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں بھی تیار کی جاتی ہے جہاں سے اس کی خریداری کافی زیادہ مہنگی پڑتی ہے لیکن مہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور اپنے عوام کو دوا کے بغیر تڑپ تڑپ کر مرنے دیں، اوّل تو ہمیں یہ ویکسین خود تیاری کرنی چاہیے لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر ہمیں بیرون ملک سے ویکسین ضرورت کے مطابق خریداری کرنی چاہیے تھی خواہ کتنی بھی رقم خرچ ہو۔ اب بھی صحت کے حوالے سے مختص کیا ہوا بجٹ پورا خرچ نہیں ہوتا بلکہ اس میں سے کافی حصہ بچ جاتا ہے اگر اس کو بچانے کے بجائے ہم اینٹی ریبیز کی خریداری پر خرچ کریں تو کم از کم عوام کی جان تو بچائی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں اگر اینٹی ریبیز ویکسین کی کمی تھی تو ہمارا محکمہ صحت اس کمی کو دیکھتے ہوئے کتوں کو ایسے انجکشن لگاتا جس سے ان کے اندر ان زہریلے مادوں کو ختم کیا جاتا جو سگ گزیدہ انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں نیز کتوں کی نس مارنے کے انجکشن بھی لگائے جانے چاہئیں جو آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے کا باعث بنتے، لیکن ہمارا محکمہ صحت کسی تدبیر یا منصوبے کے تحت نہیں چل رہا، اس ضمن میں حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس وقت کراچی میں سگ گزیدگی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں جون اور جولائی کے دوران سگ گزیدگی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق اس عرصے میں سول اسپتال میں سگ گزیدگی کے 2 ہزار 29 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جناح اسپتال میں ایک ہزار 392 مریض لائے گئے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے 24 گھنٹے کے اندر ویکسین لگوانا ضروری ہے جبکہ سول اسپتال ڈاکٹر رومانہ کے مطابق زیادہ تر کیسز کا تعلق بلدیہ ٹاؤن، سرجانی اور نارتھ کراچی سے ہے۔ سول اسپتال میں یومیہ 60 سے 70 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جناح اسپتال میں یومیہ 20 سے 30 افراد کو لایا جا رہا ہے۔ لاہور میں سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات کا عدالت نے نوٹس لے لیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کے شہریوں کو کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر متعلقہ محکموں سے رپورٹیں طلب کر لی ہیں۔ آوارہ کتوں سے متاثرہ افراد کے علاج معالجہ کے لیے ویکسین فراہم نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو اسپتال کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میو اسپتال میں 14 ماہ کے دوران کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہونے والے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، میو اسپتال میں 24 ستمبر 2024 سے اب تک 1796 مریض لائے گئے۔ شہر کے کئی علاقوں میں بچے اس خطرے کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

 

ضیا الحق سرحدی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں سگ گزیدگی کے گیا ہے

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے