مسئلہ کشمیر نوجوان نسل سے فعال کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے، مقررین
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق یوتھ فورم فار کشمیر کے تعاون سے منعقدہ سیمینار کے مقررین نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی طاقتوں میں عدم توازن نے اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے کہا ہے کہ مقدمہ کشمیر قانونی طور پر مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یوتھ فورم فار کشمیر کے تعاون سے منعقدہ سیمینار کے مقررین نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی طاقتوں میں عدم توازن نے اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے اور پاکستان کے نوجوانوں پر ملک کے نظریاتی اصولوں کی روشنی اور رہنمائی میں اس مقدمے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سیمینار میں سفارتکاروں، محققین اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
آزاد کشمیر کے سابق صدر اور سفارتکار سردار مسعود خان، چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمن، سیکرٹری آئی پی ایس ورکنگ گروپ برائے کشمیر فرزانہ یعقوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز ڈاکٹر ولید رسول، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے عمیر پرویز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ فورم فار کشمیر زمان باجوا سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں شامل تھے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ جنریشن زی سوشل میڈیا کی وسیع رسائی کی وجہ سے معلومات تک رسائی اور اظہار کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک منفرد طریقے سے بااختیار ہے۔ اس کے نتیجے میں اس نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف سطحوں پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو خود کو قوم کے معمار سمجھنا چاہیے اور اسی تناظر میں کشمیر کے مسئلے کو دیکھنا چاہیے اور اپنے اہداف کو پاکستان کے نظریاتی بنیادوں کے مطابق رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے کئی نسلوں نے قربانیاں دی ہیں اور اب یہ ذمہ داری پاکستان کے نوجوانوں پر منتقل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور کشمیری بھائی چارے کے مشترکہ نظریے کے ذریعے بندھے ہوئے ہیں اور مئی 2025ء کے واقعات نے اس اجتماعی عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ڈاکٹر ولید رسول نے کہا کہ 5جنوری 1949ء کشمیری تاریخ کا ایک اہم موقع ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح طور پر کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا۔ انہوں نے کہاکہ ان قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی مسئلے کی قانونی حیثیت کو کم نہیں کرتی۔ عمیر پرویز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کا معاملہ ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں میں دی گئی ہے۔ خالد رحمن نے بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین جب اپنے عوام کو قائل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ اکثر عوام پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے انتشار اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے صبر اور طویل مدتی حکمت عملی ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کشمیر کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔