حیدرآباد پریس کلب نے صحافیوںکے حقوق کیلیے ہمیشہ توانا آواز بلند کی،شہزاد شیخ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(نمائندہ جسارت) ڈویژنل ڈائریکٹر انفارمیشن حیدرآباد شہزاد شیخ نے اپنے افسران کے ہمراہ پریس کلب حیدرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پریس کلب کے انتخابات برائے سال 2026ء میں کامیاب ہونے والے نومنتخب عہدیداران کو دلی مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر محمد یعقوب بھٹی، انفارمیشن آفیسر علی وقاص سہتو اور اسسٹنٹ سعید شیخ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈویژنل ڈائریکٹر انفارمیشن نے نومنتخب صدر جنید خانزادہ، جنرل سیکرٹری اشوک شرما اوراراکین مجلس عاملہ کو ہار پہنائے ۔اس موقع پر شہزاد شیخ نے کہا کہ پریس کلب حیدرآباد ایک مؤثر اور فعال صحافتی ادارہ ہے جس نے ہمیشہ صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ اور آزادی صحافت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب عہدیداران اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے انجام دیتے ہوئے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور پریس کلب کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ عوام تک درست اور بروقت معلومات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے نومنتخب نائب صدر جے پرکاش مورانی، خزانچی اکرم شاہد، جوائنٹ سیکرٹری فہیم ببر اور اراکین مجلس عاملہ علی حسن، لالہ رحمان سموں، خالد کھوکھر، محمد حسین خان، اقبال ملاح، حمیدالرحمان، جاوید چراخ، سہیل انصاری اور ظفر ہکڑو کو بھی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔