پشاور: لینڈ مافیا، سود خوروں اور راہزنوں کیخلاف پولیس سرگرم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پشاور پولیس نے لینڈ مافیا، سود خوروں اور راہزنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
شہریوں کی قیمتی اراضی اور جائیدادیں ہڑپنے والوں کو قانون کی گرفت میں لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جائیدادیں اور زمینیں اسلحہ کی نوک پر ہتھیانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
ان کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کے لئے قبضہ مافیا کی فہرستیں بھی مرتب کردی گئی ہیں۔
گزشتہ سال پشاور میں قبضہ مافیا کے خلاف درج 75 مقدمات میں ملوث 332 ملزمان میں سے 242 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو ایک درخواست دینے پر قبضہ گروپ سے ان کی جائیداد یا پلاٹ کا قبضہ انھیں مل جاتا ہے تاہم راہزنی کے واقعات بدستور جاری ہیں۔
دوسری جانب رہزنی کی وارداتیں اب بھِی عروج پر ہیں، اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر سے سود خوروں سمیت قبضہ مافیا کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
شہر میں سود خوروں کے خلاف درج 51 مقدمات میں ملوث تمام 63 ملزمان قانون کی گرفت میں آچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔