چکوال؛ دھند کے باعث مسافر بس گہری کھائی میں جا گری، 5افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی سے ملتان جانے والی مسافر بس تلہ گنگ کے علاقے ڈھوک پٹھان میں 100 فٹ گہری کھائی میں جا گری جس کے باعث 5 افراد جاں بحق اور 16 شدید زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دھند کے باعث موٹر وے اور سی پیک بند ہے جس کے سبب بس جی ٹی روڈ سے سفر کر رہی تھی تاہم پہاڑی علاقہ ڈھوک پٹھان کے قریب بس حادثے کا شکار ہوگئی۔
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو گورنمنٹ سٹی اسپتال منتقل کر دیا۔
مزید پڑھیںکراچی، شاہراہ فیصل ائیرپورٹ سگنل کے قریب ٹریفک حادثہ خاتون جاں بحق
مظفرآباد میں خوفناک حادثہ، مسافر کوچ کھائی میں جاگری
لاہور کینال روڈ پر باراتیوں سے بھری ویگن حادثہ کا شکار، ایک شخص جاں بحق
حادثہ شدید دھند اور پہاڑی راستے کے باعث پیش آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک