2 جنوری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنرز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں مقامی منتخب نمائندوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لیبر قوانین پر عمل درآمد، ٹریڈ یونینز کی نگرانی اور صنعتی تنازعات کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو مزید اختیارات تفویض کر کے علاقے کی منتخب حکومت کو مزید بے اختیار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی صدر دروپدی مرمو نے مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت مرکزی زیرانتظام تمام علاقوں کے منتظمین اور لیفٹننٹ گورنرز کو صنعتی تعلقات کے ضابطہ 2020ء کے تحت حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے۔ 2 جنوری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنرز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں مقامی منتخب نمائندوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لیبر قوانین پر عمل درآمد، ٹریڈ یونینز کی نگرانی اور صنعتی تنازعات کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ حکام نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد انتظامیہ کو مضبوط کرنا ہے لیکن تجزیہ کار اسے ایل جی اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ حکومت کو تمام اختیارات دینے کی دانستہ کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ وہ ہندوتوا کی پالیسیوں کو آگے بڑھائیں اور علاقے پر کنٹرول کو مستحکم کر سکیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منتخب لیڈر پہلے ہی ربڑ سٹیمپ کے طور پر کام کرتے ہیں، اصل اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ اختیارات کی اس تازہ ترین منتقلی سے علاقے پر قابض انتظامیہ کی گرفت مزید مضبوط ہو گی، جمہوری ڈھانچہ اور مقامی ادارے مزید کمزور ہون گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ہندوتوا کے نظریے کو مسلط کرنے اور کشمیریوں کی شناخت مٹانے کے لیے ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہیں۔ صنعتی تعلقات کا ضابطہ 2020ء، ٹریڈ یونینوں، روزگار کی صورتحال اور صنعتی تنازعات سے متعلق قوانین کو تقویت دیتا ہے۔ لیفٹننٹ گورنر کو ”مناسب حکومت” کا کردار سونپ کر بھارتی حکومت نے نہ صرف فیصلہ سازی کو محدود کیا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صنعت، لیبر یا تجارت سے متعلق کوئی بھی معاملہ قابض حکام کے براہ راست کنٹرول میں رہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے ایک ایسے خطے میں جسے پہلے ہی بے شمار پابندیوں، فوجی کارروائیوں اور معاشی پسماندگی کا سامنا ہے، ایل جی کے اختیارات میں اضافہ کشمیریوں کی ناراضگی کو مزید بڑھانے اور منتخب حکومت کو دیوار کے ساتھ لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی کرتی ہیں جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حکومت کو کو مزید

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم