بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں لیفٹننٹ گونر کو مزید اختیارات دیکر نام نہاد منتخب حکومت کو مزید بے اختیار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
2 جنوری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنرز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں مقامی منتخب نمائندوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لیبر قوانین پر عمل درآمد، ٹریڈ یونینز کی نگرانی اور صنعتی تنازعات کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو مزید اختیارات تفویض کر کے علاقے کی منتخب حکومت کو مزید بے اختیار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی صدر دروپدی مرمو نے مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت مرکزی زیرانتظام تمام علاقوں کے منتظمین اور لیفٹننٹ گورنرز کو صنعتی تعلقات کے ضابطہ 2020ء کے تحت حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے۔ 2 جنوری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنرز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں مقامی منتخب نمائندوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لیبر قوانین پر عمل درآمد، ٹریڈ یونینز کی نگرانی اور صنعتی تنازعات کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ حکام نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد انتظامیہ کو مضبوط کرنا ہے لیکن تجزیہ کار اسے ایل جی اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ حکومت کو تمام اختیارات دینے کی دانستہ کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ وہ ہندوتوا کی پالیسیوں کو آگے بڑھائیں اور علاقے پر کنٹرول کو مستحکم کر سکیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منتخب لیڈر پہلے ہی ربڑ سٹیمپ کے طور پر کام کرتے ہیں، اصل اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ اختیارات کی اس تازہ ترین منتقلی سے علاقے پر قابض انتظامیہ کی گرفت مزید مضبوط ہو گی، جمہوری ڈھانچہ اور مقامی ادارے مزید کمزور ہون گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ہندوتوا کے نظریے کو مسلط کرنے اور کشمیریوں کی شناخت مٹانے کے لیے ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہیں۔ صنعتی تعلقات کا ضابطہ 2020ء، ٹریڈ یونینوں، روزگار کی صورتحال اور صنعتی تنازعات سے متعلق قوانین کو تقویت دیتا ہے۔ لیفٹننٹ گورنر کو ”مناسب حکومت” کا کردار سونپ کر بھارتی حکومت نے نہ صرف فیصلہ سازی کو محدود کیا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صنعت، لیبر یا تجارت سے متعلق کوئی بھی معاملہ قابض حکام کے براہ راست کنٹرول میں رہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے ایک ایسے خطے میں جسے پہلے ہی بے شمار پابندیوں، فوجی کارروائیوں اور معاشی پسماندگی کا سامنا ہے، ایل جی کے اختیارات میں اضافہ کشمیریوں کی ناراضگی کو مزید بڑھانے اور منتخب حکومت کو دیوار کے ساتھ لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی کرتی ہیں جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔