لداخ کو تباہ کرنے کے بعد بھارت اب جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی سازش کر رہا ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
انہوں نے کہا کہ جب اگست 2019ء میں جموں و کشمیر کی غیر قانونی طور پر تشکیل نو کی گئی، اس وقت نئی دہلی میں بی جے پی کی حکومت تھی، پھر بھی اس نے اس وقت اس معاملے کو نہ اٹھایا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کٹھ پتلی وزیراعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے 2019ء میں لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے تباہ کر دیا اور اب جموں کو کشمیر سے الگ کر کے اسے بھی تباہ کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے لداخ کا غلط استعمال کرنے اور اسے تباہ کرنے کے لیے مرکز کے زیرانتظام علاقے میں تبدیل کیا تھا اور اب جموں میں علیحدہ ریاست کے مطالبات کی آڑ میں اسی طرح کا تفرقہ انگیز کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ وہ بی جے پی کے رہنما اور جموں کے رکن اسمبلی شام لال شرما کی طرف سے جموں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے کے بیان پر ردعمل دے رہے تھے، جسے بعد میں بی جے پی نے ان کا انفرادی موقف قرار دیا۔ عمر عبداللہ نے پوچھا کہ بی جے پی کو اچانک جموں کی ریاست کیوں یاد آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اگست 2019ء میں جموں و کشمیر کی غیر قانونی طور پر تشکیل نو کی گئی، اس وقت نئی دہلی میں بی جے پی کی حکومت تھی، پھر بھی اس نے اس وقت اس معاملے کو نہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ فکر اچانک کیوں؟ ان کی سیاست کہیں ناکام ہو گئی ہے اور وہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی تجاویز کے پیچھے محرکات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے مذہبی اور سیاسی انجینئرنگ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ مذہبی بنیادوں پر ہے؟ ایک طرف وہ ہم پر الزام لگاتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود جموں و کشمیر کو تباہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیر سے الگ کر انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ بی جے پی تباہ کر
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ